.

اسرائیل:سابق فوجیوں کی این جی او کے لیے سوئس امداد کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کو سوئٹزر لینڈ کی جانب سے تصویری نمایش کے لیے مالی امداد دینے پر باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے اور کہا ہےکہ یہ اسرائیلی این جی او فوج کے تشخص کو داغدار کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیل کے سابق فوجیوں کی قائم کردہ غیر سرکاری تنظیم ''خاموشی توڑیے'' آج جمعرات سے سوئس شہر زیورخ میں تصویری نمایش منعقد کررہی ہے اور اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فورسز کے مظالم کو اجاگر کیا جائے گا۔

اس این جی او میں شامل سابق اسرائیلی فوجی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی فورسز کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کے عینی شاہد ہیں اور وہ مختلف فورمز پر ان مظالم کی تفاصیل زبانی اور تصاویر کی شکل میں بیان کرتے رہتے ہیں جس پر صہیونی ریاست کے عہدے دار سخت نالاں ہیں اور انھیں اس این جی او کی جانب سے عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر سُبکی کاسامنا ہے۔

اسرائیل کی نئی نائب وزیر خارجہ زیپی حوتوویلی نے بدھ کو اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ زیورخ میں این جی او کے شو کو منعقد نہیں ہونے دیں گی۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان عمانوایل نہشون نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے وزارت خارجہ اور برن میں اسرائیلی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ نمائش کو منعقد ہونے سے روکنے کے طریقوں کا جائزہ لیں اور اس کے انعقاد کو بہرصورت روکیں۔

اس ترجمان کا کہنا تھا کہ ''ہم ایک تنظیم کے اقدامات کو تسلیم نہیں کرسکتے ہیں جس کا مقصد ہی اسرائیلی فوجیوں کی توہین کرنا ہے اور اسرائیل کے امیج کو شدید نقصان پہنچانا ہے''۔مسٹر نہشون کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر پہلے ہی سوئس وزارت خارجہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھا چکے ہیں اور اس کو اپنی تشویش سے آگاہ کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں خدمات انجام دینے والے سابق اسرائیلی فوجیوں نے سنہ 2004ء میں ''خاموشی توڑیے'' کے نام سے یہ غیر سرکاری گروپ قائم کیا تھا۔تب سے اس کی اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی چل رہی ہے اور ان کے درمیان گرما گرمی ہوتی رہتی ہے۔اسرائیلی ارباب اقتدار وسیاست اس گروپ کی سرگرمیوں کی یہ کہہ کر مذمت کرتے چلے آرہے ہیں کہ ان سے بیرون ملک اسرائیل کا تشخص مجروح ہورہا ہے۔

گذشتہ ماہ اس گروپ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں اسرائیلی فوج پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے 2014ء کے موسم گرما میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے دوران طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں بائیس سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور ان میں زیادہ تر عام شہری تھے۔غزہ جنگ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں یا ان کے حملوں میں تہتر اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ان میں چھیاسٹھ فوجی تھے۔

''خاموشی توڑیے'' اپنی نمایش میں تصاویر اور بیانات کے ذریعے اسرائیل کے مقبوضہ غرب اردن میں روزمرہ زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہے۔اس کو سوئس وزارت خارجہ اور زیورخ شہر کی جانب سے اس نمایش کے لیے مالی امداد دی گئی ہے۔

سوئس وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برن نے نمایش کے لیے پندرہ ہزار سوئس فرانک کی معاونت کی ہے۔زیورخ کے محکمہ خزانے کے ترجمان نے غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے مختص فنڈز میں سے اس تنظیم کو دس ہزار فرانک عطیہ کے طور پر دینے کی تصدیق کی ہے۔

سوئس ترجمان پیٹرکس پونس کا کہنا تھا کہ ہم رقم دینے سے پہلے بہت سوچ بچار اور چھان پھٹک کرتے ہیں۔انھوں نے نمایش کو بہت متوازن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر بحث ومباحثے بھی کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس پر بہت تنقید کی جارہی ہے لیکن ہمارے خیال میں نمائش دیکھنے کے لیے آنے والے زیورخ کے لوگ اپنی آراء کا اظہار کرسکتے ہیں۔

نمایش کے میزبان ادارے نے ''خاموشی توڑیے''سے متفق نہ ہونے والوں کو دعوت دی ہے کہ وہ تقریب میں آکر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔اس نے اسرائیلی سفارت خانے کو بھی نمایش میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن اس نے شریک ہونے سے انکار کردیا تھا۔

''خاموشی توڑیے'' کے ارکان نے بدھ کو آخری وقت میں نمایش کی تیاری کی تھی اور انھوں نے اسرائیل کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ وہ فوج کی شہرت کو داغدار کرنا چاہتے ہیں۔

تنظیم کے ایک رکن اور صہیونی فوج میں تین سال تک خدمات انجام دینے والے ایک فوجی شائے ڈیوڈوچ کا کہنا ہے کہ ''ہمارے خیال میں اسرائیلی اور عالمی برادری جو کچھ جانتے ہیں،اس میں اور برسرزمین جو کچھ رونما ہورہا ہے،اس میں ایک خلیج ہے''۔ان کے الفاظ میں دنیا کو فلسطینی علاقوں کے بارے میں جو کچھ بتایا جارہا ہے،ان کا برسرزمین حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے اور زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔