.

ہاروڈ کے سابقہ طالب علم کا مادرعلمی کو 400 ملین ڈالر کا عطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کئی دیگر جامعات کی طرح اپنے فیض علمی کے ثمرات سمیٹ رہی ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال یونیورسٹی کے ایک فارغ التحصیل کی جانب سے 400 ملین ڈالر کی غیرمعمولی گرانٹ ہے جو سابقہ طالب علم نے اپنی مادرعلمی کو عطیہ کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یونیورسٹی کے سابق گریجویٹ جون پالسن نہ صرف یونیورسٹی کو عطیہ دینے والوں میں شامل ہوئے ہیں بلکہ اب تک تمام عطیات میں ان کی رقم سب سے زیادہ ہے۔ پچھلے چند ماہ میں یونیورسٹی کے تین دوسرے فضلاء نے بھی بھاری رقوم عطیہ کی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 59 سالہ جون پالسن ایک فرم کے مالک ہیں جس نے مختلف شعبوں میں 19 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ پالسن نے حال ہی میں اپنی مادرعلمی "ہارورڈ " کے اکنامک کالج کے لیے بھاری رقم عطیہ کی ہے جبکہ امید ہے کہ وہ اسی یونیورسٹی کے انجینیرنگ اینڈ اپیلائیڈ سائنسز کالج کے لیے بھی رقم فراہم کریں گے۔

پالسن کا کہنا ہے "تعلیم سے اہم انسان کی بہتری کے لیے اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ ہاروڈ یونیورسٹی کے کالج آف انجینیرنگ اینڈ ایپلائیڈ سائنسز جامعہ کی افق پرایک کامیاب ادارہ بن کرابھرے گا اور مستقبل میں ایجادات کا سب سے بڑا مرکز ثابت ہوگا۔"

خیال رہے کہ دو سال قبل یونیورسٹی کے تحت "ایفلی لیگ" نامی ایک مہم چلائی گئی تھی جس کے تحت 6.5 ارب ڈالر کے عطیات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اب تک اس مہم کے تحت پانچ ارب ڈالر کی رقم جمع کی جا چکی ہے۔ سنہ 2014ء میں کینتھ گیرفین نے 150 ملین ڈالر جبکہ دو سگے بھائیوں[یونیورسٹی کے سابق طلباء] رونی اور گیرالڈ چان نے مجموعی طورپر 350 ملین ڈالر کی رقم عطیہ کی تھی۔ گیرالڈ نے ہاروڈ یونیورسٹی سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ جون بولسن یونیورسٹی کو سب سے زیادہ رقم عطیہ کرنے والوں میں سر فہرست ہیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے بھی انجینیرنگ و ایپلائیڈ کالج آف سائنسز کا نام امریکی خلانورد اسٹیفانی ویلسن کے بجائے اب تبدیل کرکے جون ای بولسن کے نام پر رکھا جائے گا۔