.

"یمن میں ایرانی مداخلت القاعدہ سے زیادہ خطرناک ہے"

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کا ریاض میں 'العربیہ' کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی قیادت کی جانب سے حوثی بغاوت میں یمن کے ساتھ تعاون اور مدد کے فیصلے کو جرائتمند اور دلیرانہ اقدام قرار دیا ہے۔

'العربیہ' نیوز چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر ہادی کا کہنا تھا کہ ایران، خلیجی اقدام کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب یمنی قیادت نے ملک میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں تہران کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت جمع کر لئے تو ایران سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ وہ یمن کو اس کے حال پر چھوڑ دے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔

ایک سوال کے جواب میں منصور ہادی کا کہنا تھا کہ ایران، یمن کے خلاف ایک باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ایرانی پروگرام کو یمن میں القاعدہ کی سرگرمیوں سے زیادہ خطرناک قرار دیا۔

منصور ہادی کے مطابق یمنی حکومت نے ایران کے سیکیورٹی حکام سے عمان میں ملاقات کی اور انہیں ایسے ثبوت فراہم کئے جن سے حوثی باغیوں کو تہران سے اسلحہ فراہمی کا پتا چلتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے ایرانیوں کے ساتھ کوارڈی نیشن کی خاطر بذات خود تہران کا دورہ کیا۔ صدر ہادی نے معزول یمنی صدر کو حوثی ملیشیا کا سیاسی مشیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبداللہ صالح اور حوثی ملیشیا کا دس نقاط پر اتفاق تھا، جن میں ایک اہم نقطہ یہ تھا کہ احمد علی عبداللہ صالح سیاسی اور عبدالمالک الحوثی دینی قائد ہوں گے تاکہ ایران کا تجربہ یمن میں منطبق کیا جا سکے۔

ریاض میں مقیم یمنی صدر کا کہنا تھا کہ یمن بحران کے حل کی خاطر جنیوا میں ہونے والے اجلاس کا مقصد اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کے طریقوں کا جائزہ لینا ہے۔

العربیہ کے احمد الطویان کو صدر منصور ہادی کا دیا جانے والا انٹرویو العربیہ نیوز چینل پر نو جون بروز منگل گرینچ کے معیاری وقت چار بجے سہہ پہر نشر ہو گا۔