.

فرانسیسی ماں کا بیٹے کے شام جانے پر حکومت پر مقدمہ

عدالت میں حکومت سے ایک لاکھ دس ہزار یورو ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں ایک خاتون نے عدالت میں حکومت کے خلاف اپنے بیٹے کو شام جانے سے روکنے میں ناکامی پر مقدمہ دائر کردیا ہے۔

شام جانے والے اس لڑکے کی شناخت صرف ''بی'' کے نام سے کی گئی ہے۔وہ فرانس کے جنوبی شہر نائس سے تعلق رکھتا تھا اور وہ 27 دسمبر 2013ء کو گھر والوں کو بتائے بغیر فرانس سے ترکی چلا گیا تھا۔اس وقت اس کی عمر صرف سولہ سال تھی۔

اس لڑکے نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔وہ دو اور فرانسیسی لڑکوں کے ساتھ پہلے طیارے کے ذریعے ترکی پہنچا تھا اور وہاں سے زمینی راستے سے شام چلا گیا تھا۔اس کی ماں کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں اس سے فون پر بات کی ہے اور وہ اب تک وہیں ہے۔

اس کے خاندان کی وکیل سمعیہ مقطوف کا کہنا ہے کہ ترکی جہادیوں کے شام میں داخل ہونے کے لیے ایک بدنام روٹ ہے۔اس خاتون کے بہ قول فرانسیسی پولیس نے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔اس لڑکے کے پاس ترکی کا یک طرفہ ٹکٹ تھا اور کوئی سامان بھی نہیں تھا۔

اس لڑکے کی ماں نے عدالت میں فرانسیسی حکومت سے ایک لاکھ دس ہزار یورو ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سمعیہ مقطوف کا کہناتھا کہ ''ہمیں اس رقم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ ہم یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک غلطی کا ارتکاب کیا گیا تھا اور اس کم سن لڑکے کو جہاد کے لیے جانے سے روکا جانا چاہیے تھا''۔

فرانسیسی وزارت داخلہ نے اس خاندان کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ وہ لڑکے کے شام جانے کی ذمے دار نہیں ہے کیونکہ وہ زیر تفتیش نہیں تھا اور اس کو بیرون ملک روانہ ہونے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

بی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اس کو اپنے بیٹے کے ارادوں کے بارے میں اس کے لاپتا ہونے سے چند روز پہلے ہی پتا چلا تھا۔وہ ان کے رہائشی علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ اچانک غائب ہوگیا تھا۔اس خاتون نے پولیس کو اس کے گھر سے چلے جانے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اطلاع دے دی تھی۔

واضح رہے کہ فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی آباد ہے اور مشرق وسطیٰ میں جا کر لڑنے والے غیرملکی جہادیوں میں سب سے زیادہ تعداد اسی ملک سے تعلق رکھتی ہے۔حکومت کے اندازے کے مطابق اس وقت قریباً پانچ سو فرانسیسی شہری یا ملک کے مقیم شام میں جاری لڑائی میں شریک ہیں۔

گذشتہ سال بہت سے کم عمر لڑکوں کو ان کے خاندانوں کی اطلاع کے بعد فرانسیسی ہوائی اڈوں سے بیرون ملک روانہ ہونے سے روکا گیا تھا۔فرانسیسی حکومت نے حال ہی میں جہادیوں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں اور حکام کو لڑائی میں شمولیت کے خواہاں افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹس ضبط کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔