.

"عرب ڈرامہ سیریل" کے لیے اسرائیل کا فنڈز فراہم کرنے سے انکار

عربوں سے نفرت کا نیا شاخسانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیرتعلیم نفتالی بینیٹ نے فلسطین کے عرب شہریوں کی جانب سے ایک ڈرامہ سیریل کی تیاری کے لیے سرکاری سطح پر فنڈز جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا ہے کہ اس ڈرامے میں ایک ایسے اسرائیلی عرب نوجوان کی کہانی شامل کی گئی ہے جس نے اسرائیلی فوجی قتل کردیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی حکومت نےثقافتی پرواگرام کے تحت عرب اداکاروں کے ہاں تیار ہونے والے ڈرامہ سیریل میں سرکاری فنڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم حال ہی میں اسرائیلی وزیربینیٹ نے ڈارمے کے پروجیکٹ سے علاحدگی کا اعلان کرتےہوئے کسی قسم کی فنڈنگ سے صاف انکار کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ ڈرامہ "متوازی زمانہ" کے عنوان سے حیفا سے تعلق رکھنے والے عرب اداکاروں کے گروپ"المیدان" نے شروع کیا تھا جسے تل ابیب حکومت کی طرف سے مالی معاونت بھی حاصل تھی۔

اسرائیلی وزیرکا کہناہے کہ اس ڈرامے میں سرمایہ کاری کا فیصلہ واپس لینے کا مقصد دراصل ڈرامے میں ولید دقہ نامی ایک عر ب کی کہانی کی شمولیت ہے۔ ولید دقہ ایک عرب شہری تھا جس نے سنہ 1984ء میں ایک اسرائیلی فوجی موشے تمام کو اغواء کے بعد قتل کردیا تھا۔

شدت پسند مذہبی رحجان رکھنے والی سیاسی جماعت"جیوش ہوم" کے سربراہ نےعرب ڈارمہ میں سرمایہ کاری واپس لینے کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیلی شہری ایسی فلموں اور ڈراموں میں سرمایہ ہرگز نہیں لگائیں گے جن میں ہمارے فوجیوں کےقتل کا جواز مہیا گیا ہو"۔

قبل ازیں اسرائیلی خاتون وزیرثقافت میری ریگیو بھی اپنے ایک بیان میں کہہ چکی ہیں کہ وہ عرب ڈرامے کو فنڈز کی فراہم کا فیصلہ واپس لینے پرغور کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس ڈرامے کی تیاری میں مغربی کنارے کے ایک فلسطینی پروڈیوسر کوبھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس نے انکار کردیا تھا۔

فلسطینی پروڈیوس کےانکار پراس وقت اسرائیلی خاتون وزیرثقافت نے "فیس بک" پرپوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں وادی اردن کے نورمان عیسیٰ کی جانب سے ڈرامہ سیریل میں شمولیت سے انکار پرمایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نورمان نے اپنی رائے پرنظرثانی نہیں کی۔ اب ہم ڈرامے کی فنڈنگ پر نظرثانی کررہے ہیں۔

اس کے رد عمل میں فلسطینی یہودی اداکار نے کہا کہ "میں اور میری اہلیا ہم دونوں یہودی ہیں اور ڈراموں میں کام کرتے ہیں مگر ہمارا مقصد عربوں اور یہودیوں کے درمیان بقائے باہمی کے اصول کے مطابق زندگی کے تصور کواجاگر کرنا ہے"۔

نورمان عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مجھ جیسے فلسطینی عرب کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ میں اپنے علاقائی اصولوں کی سودے بازے کرتےہوئے کسی متنازعہ ڈرامے میں کوئی کردار ادا کروں۔

اسرائیل میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت" میرٹز" کی رہ نما زیھافا گالون نے میری ریگیو اور نفتالی بینیٹ کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں عرب ڈرامہ کی فنڈنگ نہیں روکنی چاہیے۔