.

ایرانی، افغان جنگجووں کی لاشوں کے بدلے شامی قیدی رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں 'داد شجاعت' دیتے ہوئے ہلاک ہونے والے افغان، پاکستانی اور پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی ایران میں تدفین کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 65 ملہوکین مشرقی درعا کی بصر الحریر میونسپلٹی میں گھمسان کی جنگ کے دوران مارے گئے اور مبینہ طور پر اہل علاقہ نے ان کی لاشیں دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم دمشق سرکار کے ہاں قید علاقے کے 24 مرد اور خواتین کی رہائی کے بعد ایرانی، پاکستانی اور افغان جنگجووں کی نعشیں تدفین کے لئے تہران کے حوالے کر دی گئیں۔

جنوبی محاذ بریگیڈ کے ساتھ نعشوں کی حوالگی اور اسیران کی رہائی کے معاہدے پر مشرقی درعا کی بصر الحریر بلدیہ میں بدھ کے روز عمل ہوا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد کی ویڈیو درعا میں سرگرم عامود حوران گروپ نے جاری کی۔

ہلاک ہونے والے 65 افراد شامی فوج کے ساتھ اس لڑائی میں ہلاک ہوئے جس کا آغاز انہوں نے بصری الحریر اور اللجاہ علاقے پر 21 اپریل کو ایک حملے کے وقت کیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر پوسٹ ویڈیو میں دمشق سرکار کی قید سے رہائی پانے والے بصری الحریر کے باسیوں کے شہر واپسی پر استقبال کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی کہ جو درعا کے نواحی شہر ازرع نقل مکانی کر گئے تھے اور انہیں دمشق کے سیکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا تھا۔

ایرانی حکام نے شامی معرکے میں کام آنے والے 65 ملہوکین کے لئے جنوبی تہران میں واقع دینی اہمیت کے شہر قم میں ایک خصوصی مقبرہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مرشد اعلی علی خامنہ ای کے ایماء پر ملہوکین کے لواحقین کے لئے خصوصی مراعات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

پاسدران انقلاب نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق پاسدران کے بیرون ملک آپریشن ونگ المعروف القدس ایلیٹ فورس سے تعلق رکھنے ان پانچ اعلی عہدیداروں کو بعد از مرگ اعزاز دینے کی خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی، جو متذکرہ معرکے میں ہلاک ہوئے۔

اپریل کے مہینے میں پاسدران انقلاب کے 32 افسروں اور جوانوں کی ایران میں تدفین کی گئی۔ یہ تعداد افغان ملیشیا 'فاطمیون' اور پاکستانی ملیشیا 'زینینون' کے اہلکاروں کے علاوہ ہے جو جنوبی شام کی درعا گورنری میں شامی فوج کے شانہ بشانہ شامی اپوزیشن گروپوں سے لڑائی میں مارے گئے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز قم میں ہونے والے تقسیم اعزازت کی ایک تقریب کی رپورٹ شائع کی ہے جو شامی فوجی کے ہمراہ لڑنے والے 200 پاسدران انقلاب کے اہلکاروں، افغان اور پاکستانی جنگجووں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔