.

جامعہ الازہر:چینی مسلمانوں پر روزے کی پابندی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی تاریخی دانش گاہ الازہر نے چین کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں مسلمانوں پر روزے نہ رکھنے کی پابندی عاید کرنے کی مذمت کی ہے۔

چین نے سنکیانگ میں سرکاری ملازمین ،طلبہ اور اساتذہ پر رمضان المبارک کے دوران روزہ رکھنے پر پابندی عاید کردی ہے اور ریستورانوں کو اس ماہ کے دوران کھلا رکھنے کا حکم دیا ہے۔

قاہرہ میں جامعہ الازہر کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق :''الازہر اور اس کے امام (سربراہ) احمد الطیب چینی حکام کی جانب سے مغربی علاقے سنکیانگ میں مسلمانوں پر روزہ رکھنے اور مذہبی اعمال کی ادائی پر پابندی عاید کرنے کی مذمت کرتے ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''جامعہ الازہر چین میں یغور مسلمانوں کے خلاف جبرواستبداد کی ان تمام شکلوں کی مذمت کرتی ہے جو ان کے مذہبی حقوق اور شخصی آزادیوں پر اثرانداز ہورہے ہیں اور وہ عالمی برادری ،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو ختم کرائیں''۔

چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی سرکاری طور پر لادینیت پر عمل پیرا ہے اور اس نے مسلم اکثریتی سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے ترک النسل یغور مسلمانوں پر گذشتہ کئی برسوں سے مختلف پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔چین کا کہنا ہے کہ اس کو سنکیانگ میں دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے اور اس کے حکام ''مذہبی انتہا پسندی کو بڑھتے ہوئے تشدد کا ذمے دار قرار دیتے ہیں''۔

یغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے سنکیانگ میں مسلمانوں پر پابندیوں سے نسلی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور حالیہ برسوں کے دوران یغوروں اور ہن چینیوں کے درمیان نسل پرستی کی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔