.

لبنان کی جیل میں قیدیوں پر ہولناک تشدد کی ویڈیو جاری

قیدیوں پر تشدد، عوامی اور سیاسی حلقوں میں غم وغصہ کی لہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی ایک مرکزی جیل "رومیہ" میں قیدیوں پر ہولناک تشدد کے انکشاف کے بعد ملک کے سیاسی، مذہبی اور عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے قیدیوں پر وحشیانہ تشدد کی تحقیقات اور اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

بیروت میں "العربیہ " کے ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر "رومیہ" جیل میں قیدیوں پر تشدد پرمبنی ایک ویڈیو فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہے جس کے بعد جیل میں قیدیوں کے خلاف جاری پر تشدد ہتھکنڈوں کے حوالے سے ملک میں گرما گرم بحث جاری ہے۔

العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کوئی ایک ماہ قبل اس وقت کے ہیں جب قیدیوں نے "رومیہ" جیل میں بغاوت کردی تھی۔ قیدیوں کی بغاوت کو فرو کرنے کے لیے وزیرداخلہ نے طاقت کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

رومیہ جیل میں قیدی افراد کے اہل خانہ کی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دوران حراست قیدیوں کو برہنہ کر کے انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا جس کے نتیجے میں کئی کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، کئی کے کندھے نکل گئے اور بعض کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کی وضاحت

دوسری جانب وزیر داخلہ نہاد المشنوق کا کہنا ہے کہ رومیہ جیل میں تشدد کے بارے میں اطلاعات درست نہیں ہیں تاہم اگر کوئی غیرقانونی تشدد ہوا ہے تو اس کی پوری طرح چھان بین کی جائے گی۔

وزیرداخلہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب قیدیوں پر تشدد کی صرف خبریں سامنے آئی تھیں اور ایسی کوئی فوٹیج منظرعام پر نہیں آئی تھی۔ تاہم فوٹیج کے منظرعام پر آنے کے بعد حالات ایک بار پھر کشیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو فوٹیج میں قیدیوں پر تشدد کے ہولناک مناظر کو جیل کے اندرہی تیار فلمایا گیا ہے۔ فوٹیج میں سیکیورٹی اہلکار قیدیوں کو وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں گالیاں بھی دیتے سنائی دے رہے ہیں۔

تاہم وزیرداخلہ نے فوٹیج کے سامنے آنے کے بعد کہا ہے کہ یہ ویڈیو جیل میں ہونے والی بغاوت کے دنوں کی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جب جیل کے بلاک" D" میں کچھ قیدیوں نے شورش کی تھی تو اسے روکنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو سخت کارروائی کرنا پڑی تھی۔ نہاد المشنوق کا کہنا ہے کہ قیدیوں پر تشدد کے مرتکب عناصرکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور انہیں کڑی سزا دی جائے گی۔

وزارت انصاف نے تحقیقات شروع کر دیں

رومیہ جیل میں قیدیوں پر تشدد سے متعلق ویڈیو کے منظرعام پرآنے کے بعد وزیر انصاف میجر جنرل اشرف ریفی نے کہا ہے کہ قیدیوں پر تشدد کے الزام میں پانچ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ قبل ازیں وزارت انصاف نے دو اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔ وزیر انصاف کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو اذیتیں دینے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور ان سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

وزیرانصاف کا کہنا ہے کہ بعض ذرائع ابلاغ میں طرابلس میں المیناء شہر کے ایک سیکیورٹی اہلکار قیدیوں پر تشدد کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے۔ اس طرح کی تمام افواہیں ملک میں انتشار پھیلانے کی سازش ہیں۔

میجر جنرل ریفی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پراسیکیوٹر جنرل جسٹس سمیر حمود سے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ قیدیوں پر وحشیانہ تشدد کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں کڑی سزائیں دی جانی چاہئیں۔

ادھر قیدیوں کے اہل خانہ اور اقارب پرمشتمل کمیٹی نے گذشتہ روز طرابلس شہر میں النور گرائونڈ میں احتجاجی دھرنا بھی دیا۔

وزیرانصاف کے مشیر اسعد بشارہ نے"العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرانصاف نے قیدیوں پر تشدد کرنے والے افراد کی شناخت کے بعد ان کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کرنے کی سفارش کی ہے۔ بشارہ کا کہنا تھا کہ قیدیوں پر وحشیانہ تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات نہایت شرمناک اور عیب کا باعث ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیاجا رہا ہے۔ تشدد کے مرتکب عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رومیہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو ٹھونسا گیا ہے۔ جیل میں زیادہ سے زیادہ 2500 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ جیل میں موجودہ قیدیوں کی تعداد 7000 ہزار سے زیادہ ہے۔

قیدیوں پر تشدد سے متعلق فوٹیج کے منظرعام پرآنے کے بعد شوشل میڈیاپربھی اسے زیربحث لایا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ فوٹیج پر تبصرے کررہے ہیں۔ بعض شہریوں نے فوٹیج میں دکھائی دینے والے عناصر کی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ فوٹیج میں عرسال سے تعلق رکھنے والے عمر الاطرش، طرابلس کے وائل الصمد اور وادی خالد بعکار کے خالد کی شناخت ہو رہی ہے۔