.

دنیا محرومیوں کا شکار بچّوں پر توجہ دے: یونیسیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت حقوق اطفال کے ادارے یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے آیندہ پندرہ سال کے دوران پسماندہ ترین بچوں پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کی تو مزید لاکھوں بچے کم خوراکی اور دوسری قابل علاج بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے مُنھ میں چلے جائیں گے۔

یونیسیف نے ''بچوں کے لیے پیش رفت'' (پراگریس فار چلڈرن) کے عنوان سے سوموار کی شب اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2000ء میں منظور کردہ ہزاریہ ترقیاتی اہداف کے بعد سے نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود غیرمساوی مواقع کی وجہ سے لاکھوں بچے کم عمری ہی میں موت کے مُنھ میں جارہے ہیں یا وہ تعلیم کے بغیر غربت زدہ زندگی گزار رہے ہیں۔

یونیسیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتھونی لیک نے کہا ہے کہ ہزاریہ اہداف سے شاندار ترقی میں مدد ملی ہے لیکن ان سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کتنے ہی بچے پیچھے رہ گئے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری موجودہ رجحان ہی کو جاری رکھنے پر اصرار کرتی ہے تو ہم لاکھوں بچوں سے محروم ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ سنہ 1990ء کے بعد سے ایک مثبت تبدیلی یہ آئی ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں نصف سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔پانچ سال سے کم عمر بچوں میں دائمی کم خوراکی کی شرح اکتالیس فی صد تک کم ہوئی ہے اور لاکھوں مزید بچے پرائمری کی سطح تک تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن منفی پہلو یہ ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ بچے اپنی پانچویں سالگرہ سے قبل ہی مر جاتے ہیں اور پانچ کروڑ اسّی لاکھ بچے پرائمری تک تعلیم کے لیے بھی اسکول نہیں جاتے ہیں۔

انتھونی لیک نے عالمی لیڈروں پر زوردیا ہے کہ وہ ستمبر میں اپنے اجلاس میں 2030ء کے لیے مقرر کیے جانے والے مجوزہ اہداف میں کرّہ ارض کے غریب ترین بچوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔اس طرح ہی غربت کے منحوس چکر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ورنہ کل کے غریب ،غیر تعلیم یافتہ آج کے غریب اور ناخواندہ بالغ ہوں گے اور اس طرح وہ یہی زندگی اپنے بچوں کو منتقل کریں گے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان بچوں کو غربت کے منحوس چکر سے نکالنے کے لیے کوششیں نہیں کی جاتی ہیں تو اس کے ڈرمائی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ یونیسیف کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اگر صورت حال جوں کی توں رہتی ہے تو 2030ء تک مزید چھے کروڑ اسّی لاکھ بچے ایسے اسباب کا شکار ہوکر موت میں چلے جائیں گے جنھیں ختم کیا جاسکتا ہے اور اُس سال تک قریباً گیارہ کروڑ نوے لاکھ بچے کم خوراکی کا شکار رہیں گے۔