.

شام کے کرنسی نوٹ سے حافظ الاسد کی تصویر ہٹا دی گئی

بیٹے کی حکومت کے اقدام پر سابق صدر کے حامی برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مرکزی بنک نے مُنگل کے روز 1000 لیرا مالیت کے نئے کرنسی نوٹ جاری کیے ہیں جن پر صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کی تصاویر غائب ہیں۔ مرحوم صدر کی تصویر کے بجائے شام کے باغیوں کے زیر قبضہ بصریٰ شہر کی تصویر شائع کی گئی ہے۔

شامی حکومت نے کرنسی نوٹ میں یہ غیر معمولی تبدیلی کیوں کی؟ اس کی وجوہات پر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے شامی شہری کرنسی نوٹوں کے غیر معیاری کاغذ اور پرنٹنگ کے باعث جلد ہی خراب ہونے کی شکایات کا انبار لگ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے نئے انداز میں کرنسی نوٹ جاری کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حافظ الاسد کی تصاویر کے بغیر کرنسی نوٹ روس کے کسی چھاپہ خانے میں تیار کیے گئے ہیں اور انہیں پہلی بار وزیر خزانہ نے دمشق میں صحافیوں کے سامنے پیش کرکے ان کا تعارف کرایا ہے۔

نئے کرنسی نوٹ پرسابق صدر حافظ الاسد کی تصویر کے بجائے شام کے باغیوں کے زیر کنٹرول تاریخی شہر بصریٰ کی تصویر دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ نیا کرنسی نوٹ جلد ہی دمشق، اللاذقیہ اور طرطوس سمیت شامی حکومت کے زیر انتظام شہروں میں متعارف کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ شام میں جاری بغاوت کے نتیجے میں شامی کرنسی کی ڈالر کے مقابلے میں قدر نچلی ترین سطح پرآ چکی ہے۔ بغاوت سے قبل 1000 لیرا 18 امریکی ڈالر کے برابر تھا جب کہ اب ایک ہزارلیرا کی قیمت صرف پانچ ڈالر رہ گئی ہے۔

صدر بشارالاسد کے والد کی تصویر کو کرنسی نوٹ سے ہٹائے جانے پر عوام میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے مگر اس اقدام پر سابق صدر کے بہی خواہوں کو 'دُکھ' پہنچا ہے اور انہوں نے اسے حکومت کی "بد دیانتی" سے تعبیر کیا ہے۔

کرنسی نوٹوں کی خرابی کی وجوہات

عوام کی جانب سے شام کی سرکاری کرنسی نوٹوں کے حوالے سے شکایات نئی نہیں ہیں۔ ایک عرصے سے شہری نوٹوں کے ٹوٹ پھوٹ اور کم وقت میں خراب ہونے کی شکایت کرتے آ رہے ہیں۔ کرنسی نوٹوں کی خرابی کے کئی اسباب ہیں۔ گھروں میں پڑی کرنسی کو چوہے کاٹ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ رطوبت کی وجہ سے بھی نوٹ جلد خراب اور ناقابل استعمال ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے خراب اور پھٹے پرانے نوٹ نئے نوٹوں کے ساتھ تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی ہے مگرایسے نوٹ قابل تبدیل نہیں سمجھے جاتے جن کے بارے میں شبہ ہو کہ انہیں جان بوجھ کر خراب کیا گیا ہے۔

مرکزی بنک نے خراب نوٹوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو خرابی کے جملہ اسباب پرغور کے بعد ان کے متبادل نوٹ جاری کرتی ہے۔ اس کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ نوٹ جو آتش زدگی، بجلی کے شارٹ سرکٹ، دہشت گردوں کے راکٹ حملوں، چوہوں یا اس قبیل کے دوسرے کیڑوں کی جانب سے کاٹے جانے، نوٹ کا رنگ اڑ جانے ، رطوبت یا پانی میں گرجانے سے خراب ہونے والے نوٹ قابل واپسی ہیں۔

اقتصادی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عوام الناس کی جانب سے جو شکایات سامنے آئی ہیں ان میں زیادہ تر 50، 100 اور 200 لیرا کے نوٹوں کے حوالے سے ہیں۔ کیونکہ ان کی پرنٹنگ اور اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کاغذ کا معیار اس قدر گھٹیا ہے کہ نوٹ چند دنوں کے اندر اندر ناکارہ ہوجاتے ہیں۔

خراب پرنٹنگ، ردی کاغذ کرنسی کی تباہی کا موجب

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شام کی سرکاری کرنسی نوٹوں کی ٹوٹ پھوٹ کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو ان کی طباعت اس قدر غیرمعیاری ہے کہ چند ایام میں نئے نویلے نوٹوں کو کا رنگ بھی اڑجاتا ہے۔ اوپر سے اس میں استعمال ہونے والا کاغذ ردی میں استعمال ہونے والے پیپر کی طرح گھٹیا ہے۔ بالکل نئے نوٹوں کے چند دن جیب میں پڑے رہنے سے ان کے نمبر اور نین نقش غائب ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ شامی کے بازاروں میں سنہ 1970ء سے اسی طرح کی غیرمعیاری کرنسی نوٹ چل رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال رہے کہ غیرمعیاری کرنسی نوٹوں کے عوام تک پہنچنے کی وجہ حکومت کی نا اہلی ہے۔ ملک میں کرنسی نوٹ تیار کرنے کے لیے کوئی کارخانہ نہیں۔ حکومت یہ کام ٹھیکے پر دوسرے ملکوں کو سونپتی ہے اور وہ اپنی مرضی کی پرنٹنگ اور کاغذ استعمال کرتے ہیں۔ اس کےنتیجے میں کرنسی نوٹوں کی بڑی تعداد ضائع ہوجاتی ہے جس کابوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے۔

تصویر کی تبدیلی پر ردعمل

شام میں صدر بشارالاسد کے والد حافظ الاسد مرحوم کی تصاویر کے ساتھ شائع ہونے والے ایک ہزار لیرا مالیت کے کرنسی نوٹوں سے صرف ان لوگوں کو زیادہ محبت ہے جو اسد خاندان کے حامی سمجھے جاتےہیں۔ انہی کی جانب سے سب سے زیادہ تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

مرکزی بنک کے اس اقدام پر شہریوں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض نے تصویر کی تبدیلی کو حکومت کا کرنسی کی قیمت بچانے کا نیا حربہ قراردیا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اگرحافظ الاسد کی تصویر ہٹا دی گئی ہے تو کرنسی نوٹوں سے صلاح الدین ایوبی کی تصویر کو بھی ہٹا دیا جائے۔

اسد خاندان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ "قائد الخالد"[حافظ الاسد] کی تصویر کے بغیر ایک ہزار لیرا مالیت کا نوٹ ایسے ہی ہے جیسے چہرے کے بغیر انسان ہو۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اسے حکومتی بدیانتی سے تعبیر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصرے دلچسپ بھی ہیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ "آپ بنک انتظامیہ کو کیوں مورد الزام ٹھراتے ہیں۔ تصویر کی تبدیلی کا حکم تو صدر بشارالاسد کی جانب سے دیا گیا ہے۔"