.

یغوروں سے ناروا سلوک؟ استنبول میں چینی ریستوراں پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں مٹھی بھر مشتعل نوجوانوں نے چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں یغور مسلمانوں سے ناروا سلوک کا غصہ استنبول میں ایک چینی ریستوراں پر نکال دیا ہے اور انھوں نے حملہ کرکے اس کے دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے ہیں۔

لیکن یہ ریستوراں کسی چینی شہری کا ملکیتی نہیں ہے بلکہ اس کے مالک ترک شہری چیحان یاعوز ہیں۔انھوں نے اپنی تمام جمع پونجی لگا کر یہ ریستوراں بنایا تھا اور اس کا باورچی ایک یغور مسلمان ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

یاعوز نے مقامی ترک روزنامے حریت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمارے گاہکوں میں چینیوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے اور ہم مشروبات میں شراب بھی پیش نہیں کرتے ہیں۔ہمارے یہاں مسلمان ہی آتے ہیں مگر اس کے باوجود اس طرح کا حملہ کردیا گیا ہے''۔

یاعوز نے بتایا ہے کہ ریستوراں پر چھے افراد نے حملہ کیا تھا۔انھوں نے آتے ہی ہمیں کہا کہ اس علاقے سے نکل جائیں اور پھر وہ چلانے لگے کہ ''ہمیں یہاں چینی ریستوراں نہیں چاہیے''۔اس ریستوران کا نام ''ہیپی چائنا'' ہے اور اب اس کو بند کردیا جائے گا۔

یغور مسلمانوں سے ناروا سلوک کے معاملے پر ترک اور چینی حکومتوں کے درمیان بھی اسی ہفتے کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔انقرہ کی حکومت نے یغور مسلمانوں سے حکام کے جبرواستبداد پر احتجاج کیا تھا جس پر چینی وزارت خارجہ نے وضاحت طلب کی تھی اور ترکی کے بیان کو اپنے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا تھا۔

یغور مسلمان اس رمضان المبارک کے آغاز سے یہ شکایت کررہے ہیں کہ چین کی ملحد حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے یغور سرکاری ملازمین ،اساتذہ اور طلبہ پر روزے نہ رکھنے کی پابندی عاید کررکھی ہے۔اس کے علاوہ بچوں کے مساجد میں جانے ،خواتین کے برقع اوڑھنے اور نوجوانوں کے ڈاڑھی بڑھانے پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یغور مسلمانوں سے ناروا سلوک پر ترکی کے تحفظات سے چینی سفیر کو آگاہ کردیا گیا ہے۔اس کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چنائینگ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ بیجنگ نے بھی ترکی کی حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ نے انقرہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی وضاحت کرے۔

گذشتہ روز ہی ترکی میں مقیم یغور گروپ نے یہ اطلاع دی تھی کہ ان کی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک سو تہتر خواتین اور بچے تھائی لینڈ سے یہاں پہنچ گئے ہیں۔ان لوگوں کو چین سے تھائی لینڈ آمد کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ یغور نسلی اعتبار سے ترکی النسل ہیں اور وہ ترک زبان ہی بولتے ہیں۔ترکی اس بنا پر تھائی لینڈ اور چین کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ یغور مہاجرین کو ترکی میں آباد ہونے کی اجازت دیں کیونکہ چین سے تھائی لینڈ پہنچنے والے یغور مسلمانوں کو دوبارہ واپس چین بھیج دیا جاتا ہے۔

عالمی یغور کانگریس کے نائب سربراہ سید طمطرق نے گذشتہ روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ تھائی لینڈ نے ڈھائی سو یغوروں پر مشتمل گروپ کو کیمپوں میں زیر حراست رکھا ہوا تھا۔ان میں سے ایک سو تہتر رہائی کے بعد ترکی پہنچ گئے ہیں۔انھوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ باقی یغور مہاجرین کو بھی تھائی لینڈ سے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔