.

اہل مراکش کے افطاری کے بعد رات کے مشاغل !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہ صیام میں افطاری، نماز مغرب اور کھانے پینے کے مشاغل کے بعد بیشتر مسلمان نمازتراویح کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں مگر افریقا کے عرب ملک مراکش میں افطار اور مغرب کے بعد شہریوں کے مشاغل مختلف ہیں۔ اگرچہ وہاں بھی بڑی تعداد نماز تراویح ہی کی تیاری کرتی ہے مگر نوجوانوں کی ایک غیر معمولی تعداد دن بھر کی تھاوٹ دور کرنے اور اپنی اندھی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہوٹلوں، ریستورانوں اور کیفی ٹیریاز کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ چائے، کافی اور دیگر مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی طرح رات کا ایک بڑا حصہ کٹ جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مراکشی نوجوانوں سے افطاری کے بعد کے ان کے مشاغل پربات کی تو 'جتنے منہ اتنی باتیں' کے مصداق ہر ایک نےاپنے اپنے دل پسند مشاغل کا کھل کر اظہار کیا۔

'نماز تراویح روح وایمان کی تجدید'

اس سلسلے میں سب سے پہلے ایک مقامی صحافی محمد بلقاسم سے بات ہوئی۔ بلقاسم نے کہا کہ افطاری، نماز مغرب اور کھانے سے فراغت کے بعد نماز تراویح بہتر سکون بخش اور روحانیت کو تازہ کرنے والا کوئی اور عمل نہیں ہوسکا۔ یہ ہمارے مذہبی شعائر میں بھی شامل ہے۔ ایک فرض بھی اور روح وایمان کی تازگی بھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گرمیوں کے ماہ صیام کی تراویح کی اپنی ہی چاشنی ہے۔ موسم گرم ہو تو لوگ زیادہ دیر تک اپنے گھروں کے اندر نہیں رہتے بلکہ وہ نماز تراویح کے لیے مساجد کا رخ کرتے ہیں جہاں کھلے ماحول میں نماز تراویح ادا کی جاتی ہے۔ نماز تراویح صلہ رحمی اور اقارب کے حال احوال معلوم کرنے کا بھی بہترین موقع ہوتا ہے کیونکہ دن بھر کی تھکان کے بعد بیشتر لوگ تراویح میں اکھٹے ہوتے ہیں۔

بلقاسم نے بتایا کہ وہ ماہ صیام کی راتوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ فٹبال بھی کھیلتے ہیں۔ بعض اوقات تو فٹبال کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

رات کو تلاوت کلام پاک

فاطمہ الزھراء بوعزیز بھی ایک صحافیہ ہیں۔ وہ ان دنوں رباط کی سرکاری نیوز ایجنسی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ماہ صیام کی راتوں کے مشاغل کے سوال پر بتایا کہ "خواتین کی ماہ صیام کی راتوں کی مصروفیات کافی زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ بیشتر وقت اپنے گھر میں گذارتی ہیں، قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ ساتھ وہ بعض اوقات اپنے سہلیوں سے میل ملاقات کو بھی نہیں بھولتیں۔

مراکشی شہری یونس افطایط نے بتایا کہ ماہ صیام کی راتوں کو ان کا معمول دوستوں کے ساتھ تاش کھیلنا ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ماہ صیام کی راتوں کی روحانیت کسی دوسرے مہینے کی راتوں میں نہیں مل سکتی۔

ہالینڈ میں ماہ صیام کی راتیں

یورپی ملک ہالینڈ میں موسم گرما میں رات بہت چھوٹی اور دن کا دورانیہ طویل ہوتا ہے۔ یہی وہے کہ وہاں کے مسلمانوں کو 18 گھنٹے کا روزہ رکھنا پڑتا ہے۔ ہالینڈ میں مقیم ایک مراکشی تارک وطن انس بن ضریف نے بتایا کہ افطار میں وہ کیلوریز سے بھرپور سوپ، کھجور اور مختلف پھلوں کا جوس استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہالینڈ میں شام کا وقت زیادہ دوست احباب کی طرف سے دی گئی دعوتوں پر گذر جاتا ہے۔ تاہم رات کا بیشتر وقت لوگ اپنے گھروں میں گذارتے ہیں۔ رات چونکہ بہت چھوٹی ہوتی ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے زیادہ مشاغل کے لیے وقت نہیں بچ پاتا۔

ثفاقتی سرگرمیاں

مراکش میں ماہ صیام کی راتوں کو نماز تراویح کے علاوہ ثفاقتی نوعیت کے مشاغل بھی عام ہیں۔ دارالحکومت رباط کی ایک یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نادیہ المہیدی نے بتایا کہ وہ نماز تراویح سے فراغت کے بعد ثقافتی نوعیت کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ رباط اور وسلا شہروں کی سیرکا بھی موقع مل جاتا ہے۔ وقت بچ جائے تو سحری کے لیے طعام کا انتظام بھی کر لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ماہ صیام کی راتوں میں قرآن میں بیان کردہ تاریخی واقعات بھی ایک دوسرے کو سنائے جاتے ہیں۔ گھروں میں "الکارطہ" نامی ایک مقامی کھیل بھی کھیلا جاتا ہے۔ یہ تاش کی طرز کا ایک کھیل ہوتا ہے جس میں خواتین اور مرد سب حصہ لیتے ہیں۔

مراکش کے بڑے شہروں میں سحری کے اوقات میں ہوٹلوں میں غیرمعمولی رش لگ جاتا ہے۔ گرمی کی وجہ سے لوگ گھروں میں کھانا تیار کرنے کے بعد کھلے مقامات، سڑکوں کے کناروں اور پارکوں میں بیٹھ کر سحری کرتے ہیں۔