.

زہریلی افطاری ،داعش کے 45 جنگجوؤں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دولت اسلامیہ عراق وشام کے پینتالیس جنگجو روزہ افطاری کے وقت زہریلا کھانے کے فوری بعد موت کے مُنھ میں چلے گئے ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق داعش کے ایک سو پینتالیس جنگجوؤں پر مشتمل گروپ افطاری میں شریک تھا لیکن روزہ کشائی کے بعد دسترخوان سے ایک سو جنگجو ہی زندہ اٹھ سکے ہیں اور باقی وہیں ڈھیر ہوگئے ہیں۔

اخباری رپورٹ میں کرد ڈیمو کریٹک پارٹی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زہرخورانی کا یہ واقعہ عراق کے شمالی شہر موصل میں پیش آیا ہے۔موصل داعش کی خلافت کا صدر مقام بھی ہے۔

البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ واقعہ زہرآلود کھانے کی وجہ سے پیش آیا ہے یا پھر جان بوجھ کر داعش کے جنگجوؤں کے کھانے میں زہر ملا کر انھیں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اگر یہ داعش پر حملہ ہے تو اس طرح زہرخورانی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں اسی طرح زہرآلود کھانے کے حملوں میں داعش کے بیسیوں جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانوی اخبار نے شام کے مقامی پریس کے حوالے ایسے ہی ایک اور واقعے کی تفصیل لکھی ہے کہ شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے اہلکار باورچی کے روپ میں داعش کے ایک کیمپ میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انھوں نے داعش کو پیش کیے جانے والے کھانے میں زہر ملا دیا تھا جس کو کھانے کے بعد متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں داعش کے جنگجوؤں کی دسترخوان پر بیٹھے تصویر بھی شامل کی گئی ہے۔ان کے لیے دسترخوان پر فرائیڈ فش ،سبز سالاد اور دوسرے کھانے چُنے گئے ہیں اور اس کے ساتھ پیپسی کولا اور دوسرے سوڈا طرز کے مغربی مشروبات رکھے گئے ہیں۔

داعش اور دوسرے جہادی گروپوں کے زیر قبضہ شام اور عراق کے علاقوں میں عام شہریوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں خواتین اور بچوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں جو ہاتھوں میں خالی برتن پکڑے کھانا اور صاف پانی لینے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔