.

دہشت گردوں اور حملے سے کیسے نمٹیں؟

چند اہم تجاویز جو کم سے کم نقصان کا ذریعہ بن سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ اگر ہمیں اپنے آس پاس کوئی مشتبہ دہشت گرد دکھائی دے جس نے خود کش جیکٹ پہن رکھی ہوئی ہو اور وہ دھماکہ کرنے کی غرض سے گھوم پھر رہا ہو تواسے پکڑنے یا اس کے حملے کی صورت میں بچائو کیسے ممکن ہے؟

العربیہ ٹی وی نے ماہرین کی ماہرانہ رائے کی روشنی میں ایسے حالات کے لیے چند تجاویز پیش کی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دہشت گرد اپنے حُلیے، لباس اور چال ڈھال میں معمول سے ہٹ کر ہوگا اور دور ہی سے اس پر شبہ ہونے لگے گا۔ اس کی توجہ صرف ہدف پرہ وگی۔ لوگوں کی بات پر زیادہ کان نہیں دھرے گا۔ خودکش جیکٹ جو اس نے پہن رکھی ہوگی اسے چھپانے کے لیے پہنے کپڑے بھی بے ڈھنگے سے لگیں گے۔

مذکورہ حالت میں اگر کوئی مشتبہ دہشت گرد آپ کے آس پاس گھوم رہا ہو تو اسے قبضے میں لینے اور گرفتار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دونوں ہاتھوں کو فضاء میں اس طرح بلند کیا جائے کہ وہ ہاتھ، بازو یا جسم کے کسی حصے سے خود کش جیکٹ کے بٹن کو نہ چھو سکے۔ ورنہ وہ خودکش دھماکہ کرسکتا ہے۔

اگرخدا نخواستہ دہشت گرد کو خودکش دھماکے سے نہ روکا جاسکے تو فرار اور کم سے کم جان نقصان کی بھی کچھ تکنیکس ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ دھماکے کے فوری بعد اس کے چھرے پہلے بلندی کی طرف اچھلتے ہیں۔ ایسے میں نہایت چستی کا مظاہرہ کریں۔ زمین پر ایسے چت لیٹیں کہ آپ کے پائوں کا رُخ دھماکے کی سمت اورسر دھماکے مخالف سمت میں ہو۔ اپنی گردن، چہرے اور سر کو بچانے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں سے انہیں چھپانے کی کوشش کریں۔ اپنے پھیپھڑوں پر دبائو برقرار رکھنے کے لیے منہ کوکھلا رکھیں۔

آپ دہشت گردوں کی چالوں کو بھی ذہن میں رکھیں کیونکہ دہشت گرد عموما دہرے بم دھماکے کرتے ہیں جس سے ہدف پر زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلتی اور زیادہ جانی نقصان ہوتا ہے۔ کسی ایسے مشتبہ شخص کو دیکھتے ہی اس سے زیادہ سے زیادہ فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ جائے دھماکہ پرموجود ہیں تو کوشش کریں کہ وہاں سے جلد از جلد پیچھے ہٹ جائیں تاکہ ایمبولینسوں اور سیکیورٹی عملے کی وہاں تک بہ آسانی رسائی ہوسکے۔