.

"خودکش بمبار مرغی" داعش کا نیا جنگی حربہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی "داعش" کی جانب سے آئے روز نئے جنگی حربے سامنے آ رہے ہیں۔ مخالفین کے مفادات پر جنگجوئوں کے ذریعے خودکش حملے اور بارود سے بھری کاروں کے ذریعے دھماکوں کے روایتی طریقوں کے بعد اب شدت پسندوں نے "خودکش مرغی" کا نیا جنگی حربہ استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

العربیہ ڈٓٹ نیٹ کے مطابق "داعش" کے جنگجو اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے مرغیوں کے ساتھ بارود باندھ کر انہیں ہدف کی طرف روانہ کرتے ہیں اور قریب پہنچنے پر ریمورٹ کنٹرول کی مدد سے انہیں اڑا دیا جاتا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے "داعش" کے اس نئے جنگی حربے سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ "داعشی" جنگجوئوں نے عراق کے فلوجہ شہر میں مخالفین کے کیمپوں اور فوجی مراکز کو "خودکش مرغیوں" کے ذریعے دھماکوں کا نشانہ بنایا اور یہ تجربہ کافی موثر ثابت ہوا ہے۔

اخبار نے ایسی ہی ایک مبینی خودکش بمبار "مرغی" کی تصویر بھی شائع کی ہے جس پر بارود باندھا گیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سوشل میڈیا پربھی یہ تصویر "اسلامک اسٹیٹ" کے حامی اور مخالفین اپنے اپنے مخصوص پروپیگنڈے کی ترویج کے لیے خوب استعمال کر رہے ہیں۔

ڈیلی میل کے مطابق "داعش" کے جنگجو جدید جنگی حربوں سے آگاہ ہیں۔ ان کی صفوں میں برطانیہ اور یورپ سے آئے جدید تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے اور مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنے کےلیے تباہ کن حملے کررہے ہیں۔ شام اور عراق کے کرد جنگجوئوں نے بھی "داعش" کے جدید ترین جنگی طریقوں اور مخالفین کے بدترین طریقے سے قتل عام کا اعتراف کیا ہے۔

ایک دوسرے اخبار"ڈیلی اسٹار" کی رپورٹ کے مطابق مرغیوں کو "خودکش بمبار" کے طورپر استعمال کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تنظیم کو افرادی قوت کی سخت قلت کا سامنا ہے۔ نیز تنظیم کے اندر بھی اس وقت سخت بھونچال کی کیفیت ہے۔ مخالفین کے قتل کے لیے مرغیوں کے استعمال کے حوالے سے بھی تنظیم کی صفوں میں اختلافات موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام اور عراق میں امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف ہونے والے فضائی حملوں اور زمینی راستوں کی بندش کے بعد اب داعش کے اسلحہ کے ذخائربھی کم پڑنے لگے ہیں۔ فضائی حملوں میں تنظیم کے اسلحہ کے بڑے بڑے ذخائر تباہ کیے گئے ہیں جس نے تنظیم کو کافی مشکلات سے دوچار کیا ہے۔

مرغیوں کو خودکش بمبار کے طورپر استعمال کرنے سے قبل شام کے کرد اکثریتی شہر کوبانی میں مینڈھے کے ساتھ بم باندھ کر اسے دھماکے سے اڑانے کے واقعات بھی منظرعام پر آچکے ہیں۔