.

وزارت عظمیٰ کا خواہاں پاکستانی نژاد برطانوی جنگجو ہلاک!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دولت اسلامی "داعش" کی صفوں میں شامل ہونے والے ایک کم عمر پاکستانی نژاد جنگجو ریاض خان المعروف 'ابو دجانہ' کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ریاض خان "داعش" کی جانب سے جاری شدہ فوٹیج میں دکھائی گئے تین برطانوی جنگجوئوں میں سے ایک ہے جو کچھ ہی عرصہ قبل لندن سے شام کے شہر الرقہ پہنچنے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سماجی کارکنوں نے غیر مصدقہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریاض خان سات جولائی کو الرقہ شہر میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ پاکستانی نژاد ریاض خان برطانیہ کا وزیر اعظم بننے کے خواب بھی دیکھتا رہا ہے۔

برطانوی اخبار"ٹیلیگراف" کے مطابق ریاض خان کی عمر 20 سال تھی۔ اس کی پیدائش برطانیہ کی جب کہ والدین پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سات جولائی کے بعد سے "ابو دجانہ" کے نام سے سرگرم ریاض خان کے تمام ٹیوٹر اکائونٹ بند ہیں۔ اس لیے اغلب امکان ہے کہ وہ فضائی حملے میں مارا جا چکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاض خان "ٹیوٹر" پر سب سے زیادہ متحرک جنگجو تھا جس نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ" پر "ابو دجانہ" کے نام سے 27 اکاوئںٹس بنا رکھے تھے۔ مقتول جنگجو کے والد ناظم خان کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے کے شام میں مارے جانے کی خبریں آئی ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لندن میں کنگز کولیج میں قائم انتہا پسندی کے بین الاقوامی اسٹڈی سینٹر سے وابستہ تجزیہ نگار شیراز ماہر کا کہنا ہے کہ "ہمیں ریاض خان کے قتل کا پورا یقین ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت تو نہیں لیکن جب سے اس کی ہلاکت کی خبریں آئی ہیں تب سے اس کے سوشل ویب سائٹیس پر بنے اکائوٹنس بند ہیں"۔

سات جولائی کو "داعشی" جنگجوئوں کی جانب سے "ٹیوٹر" پرایک بیان پوسٹ کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ابو دجانہ ایک فضائی حملے میں شہید ہو گیا ہے۔ سب لوگ اس کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کریں۔

"ٹیلیگراف" نے مقتول جنگجو کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریاض خان برطانیہ میں انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھا جنہوں نے اس کی ذہن سازی کی اور شام پہنچانے میں اس کی مدد کی ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ریاض خان لندن میں کرڈف سے محض چند میٹر کی دوری پر رہ رہا تھا۔ جہاں قریب ہی عبداللہ میا نامی ایک شدت پسند کی بھی رہائش تھی۔ عبداللہ میا اس وقت برطانیہ کی ایک جیل میں قید ہے۔ اس پر لندن میں مبئی طرز کے دھماکوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 27 سالہ عبداللہ میا، اس کا بھائی 32 سالہ جورکانس دیسی اور ایک ساتھی 30 سالہ عمر لطیف بھی شاہراہ کارڈف میں رہائش پذیر رہ چکے ہیں جہاں کچھ فاصلے پر ریاض خان کی رہائش تھی۔ یہ تینوں اس نو رکنی گروپ میں شامل تھے جنہیں دسمبر 2010ء میں لندن میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ ریاض خان کا بھی ان لوگوں سے ملنا جلنا تھا۔

ریاض خان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ریاض بھی تین تینوں جنگجوئوں سے رابطے میں تھے۔ چونکہ یہ سب ایک دوسرے کے پڑوسی تھے، اس لیے اچھی طرح واقف بھی تھے۔ تاہم ریاض انہیں عموما بے وقوف کہا کرتا تھا۔ ٹیلیگراف نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ریاض خان کو دہشت گردی کی طرف لے جانے میں ان تینوں جنگوئوں کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ملک سے 500 جنگجو دولت اسلامی "داعش" میں شامل ہو چکے ہیں جب کہ 300 افراد شام میں لڑائی کے بعد واپس بھی لوٹے ہیں۔