.

تحریف سے پاک قرآن، مستشرقین کے منہ پر طمانچہ!

قدیم قرآنی نسخے نے کتاب اللہ بارے شکوک کی چادر اُتار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو روز قبل برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے ایک کتب خانے سے دریافت ہونے والے ممکنہ طور پر قدیم ترین قرآنی نسخے نے کتاب اللہ کے بارے میں مستشرقین کی پھیلائی افواہوں اور اس میں تحریف کے من گھڑت دعوئوں کو جھوٹا ثابت کرتے ہوئے قرآن مجید کے ہرقسم کی تحریف سے پاک ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برمنگھم یونیورسٹی کے زیر اہتمام قدیم ترین قرآن نسخے کے کاربن ریڈیو ٹیسٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک کا یہ نسخہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما نے کے کوئی 13 سال بعد مرتب کیا گیا تھا۔ گویا قرآن کے اس نسخے کو لکھنے والے صحابی رسول ہیں جو نبی کے زمانے میں حیات تھے اور یہ قرآن خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تحریر کیا گیا تھا۔

قرآن کریم کا یہ نسخہ بھیڑ یا بکری کی جلد پر تحریر کیا گیا۔ کاربن ریڈیو ٹیسٹ سے 95.4 فی صد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھیڑ یا بکری کی کھال 568ء سے 645ء کے درمیان اتاری گئی تھی۔ سیرت نبوی کی کتب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 23 اپریل 571ء بتائی جاتی ہے اور بعث نبوی کا آغاز سنہ 610 اور وفات رسول 632ء میں مدینہ منورہ میں ہوتی ہے۔ ٹیسٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کی کھال پر قرآن پاک کا یہ نسخہ لکھا گیا وہ بھی نبی اکرم کے دور میں موجود تھا۔

برمنگھم یونیورسٹی میں قدیم اسلامی اور مسیحی مخطوطات کے ماہر پروفیسر ڈیود تھامس کہتے ہیں کہ یہ قرآن پاک کا یہ نسخہ ہمیں نبی اکرم آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے بہت قریب لے جاتا ہے۔ حجازی رسم الخط میں لکھے اس قدیم قرآنی نسخے نے قرآن پاک کے بارے میں بہت سے شکوک وشبہات کو ختم کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن پاک جیسا کہ نبی کے دور میں تھا ایسا ہی چودہ سو سال بعد آج بھی امت کے پاس اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں کی گئی ہے۔

پروفیسر تھامس کہتے ہین قرآن نسخے کا کاتب کوئی صحابی رسول ہے جس نے آخری نبی کی صحبت اختیار کی یا کم سے کم وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طورپر جانتا بھی تھا۔ اگر یہ بھی نہیں تو اس نے آپ کو ایک بار ضرور دیکھا ہو گا۔ جس دور میں قرآن کا یہ نسخہ لکھا گیا اس دور میں قرآن اگرچہ کسی مربوط کتابی شکل میں نہیں تھا۔ کچھ حصہ کجھور کی چھال پر، جانوروں کی کھال اور اونٹوں کی ہڈیوں پر لکھا گیا تھا۔

صفحات قرآن موجودہ نسخوں کے مماثل

پروفیسر تھامس کا کہنا ہے کہ جس جانور کی کھال پر قرآن پاک کا وہ حصہ لکھا گیا ہے اس کے کاربن ریڈیو ٹیسٹ سےپتا چلتا ہے کہ وہ آخری نبی کے دور کے بہت قریب تھا۔ اس کھال ہی نے قرآن کے اس قدیم ترین نسخے کی قدامت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ قرآن پاک کے صفحات کی ترتیب بھی وہی ہے جو آج کے قرآنی نسخوں کی ہے۔

قرآن پاک کے تحریف سے پاک اللہ کی کتاب ہونے کے بارے میں یہی کافی ہے۔ اس نسخے نے مستشرقین کے اس دعوے کو غلط ثابت کیا ہے کہ [نعوذ باللہ] موجودہ قرآن وہ نہیں جو نبی پر نازل ہوا بلکہ بعد میں مسلمانوں نے فتوحات اسلامیہ کے تناظر میں اس میں تحریف کر ڈالی تھیں۔ قرآن پاک کے قدیم نسخے نے آج کے انسان کو تیرہ سو سال قبل نبی اکرم کے دور کے بہت قریب کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن جیسے نازل ہوا ایسے ہی امت کے پاس آج بھی اصل اور محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس میں ایک نکتے کے برابر بھی تبدیلی نہیں ہوئی۔

کاربن ریڈیو تحقیقات سے کم سے کم موجودہ نسخے کے قدیم ترین ہونے کی تصدیق ہوتی، بالفرض اگر یہ قرآن کریم کا قدیم ترین نسخہ نہیں تب بھی اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن پاک ہر قسم کی اغلاط اور تحریفات سے پاک کتاب ہے۔

جامع صنعاء کا قدیم نسخہ

برمنگھم یونیورسٹی کی لائبریری سے ملنے والا قرآن پاک قدیم نسخہ کتاب اللہ کا پہلا پرانا نسخہ نہیں بلکہ خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں تیار ہونے والے قرآنی نسخوں کی کچھ نقول آج بھی مختلف مقامات پرموجود ہیں۔ اُنہی میں 15 ہزار لفافوں کی شکل میں ایک نسخہ یمن کی جامع صنعاء کی ایک لائبریری میں ہے جسے "قرآن صنعاء" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ نسخہ سنہ 1972ء کو دریافت کیا گیا۔ یہ بھی حجازی رسم الخط میں تحریر کردہ ہے۔ اس نسخے پر جرمن ماہرین نے پروفیسر گیرڈ بوین کی قیادت میں تحقیقات کیں اور اسے قدیم ترین قرآنی نسخہ قرار دیا گیا تھا تاہم برمنگھم یونیورسٹی سے دستیاب ہونے والے قرآنی نسخے نے یمن کے نسخے کے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لیا ہے کیونکہ برمنگھم والا نسخہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں لکھا گیا جب کہ صنعاء والا نسخہ ان کے بعد حضرت عثما بن عفان رضی اللہ عنہ یا خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں لکھا گیا تھا۔

پروفیسر بوین نے صنعاء کے قدیم قرآنی مخطوطات پر چار سال تحقیقات کیں اور بتایا یہ نسخہ زیادہ سے زیادہ رحلت نبوی کے 90 سال بعد لکھا گیا ہے۔ اگر وفات رسول کے نوے سال بعد کا عرصہ مقرر کیا جائے تو یہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کا دور بنتا ہے۔ اگرچہ صنعاء کا نسخہ ایک مکمل کتابی شکل میں نہیں تاہم اس کی 3500 تصاویر حاصل کرکے اسے نئے انداز میں محفوظ کیا گیا ہے۔

سیرت ابن ھشام کے مطابق کاتبین وحی کی تعداد 43 تھی۔ یہ صحابہ قرآن کی نازل ہونے والی آیات کو لکھ لیا کرتے تھے۔ کاتبین وحی میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابو طالب، زید بن ثابت، حارث بن ہشام، خنظلہ بن الربیع، عبداللہ بن سعد بن ابو سرح اور انصاری صحابی ابی بن کعب جیسے جلیل القدر صحابہ کرام کے نام شامل ہیں۔