.

حاکم دبئی مہمانوں کے لیے خود کھانا تیار کرتے ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکمرانوں کے ہمہ نوع کھانے بنانے کے لیے عموما پیشہ ور باورچیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو دن رات ان کے لیے مرغوب کھانے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی عاجزی اور انکساری ملاحظہ کیجیے کہ ایک سیاحتی دورے کے موقع پر وہ اپنے چینی مہمانوں کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فطرت پسند الشیخ آل مکتوم حال ہی میں ایک جنگلی علاقے کی سیر کے لیے گئے جہاں ان کے ہمراہ ان کی بیٹی اور چین کا ایک وفد بھی تھا۔ اس وفد کے لیے انھوں نے کھانا خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیا۔

بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک" پرپوسٹ کی گئی ایک تصویرمیں بھی انہیں کھانا بناتے دکھایا گیا ہے۔ اپنے ٹیوٹراکائونٹ پرانہوں نے لکھا کہ "دوستوں کے لیے کھانا خاص اہتمام سے تیار کیا جانا چاہیے۔ مجھے اپنے دوستوں کے لیے کھانا بناتے ہوئے بہت مزہ آتا ہے اور بہت خوشی ہوتی ہے"۔

الشیخ راشد ایک فطرت پسند انسان ہیں۔ تواضع اور منکسرالمزاجی ان کی شخصیت کا حصہ ہے لیکن وہ سیروسیاحت، قدرتی مقامات سیر اور شکار بھی حد درجہ شوقین ہیں۔ وہ اکثر شکار اور سیاحت کے دوروں کے دوران لی گئی تصاویر کو"انسٹا گرام"، "فیس بک" اور "ٹیوٹر" پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔

وہ اپنی ایک ٹویٹ میں خود لکھتے ہیں قدرت کے حسن و جمال کو بہت پسند کرتا ہوں۔ شکار کے لیے صحراء یا جنگ میں جانے کے بعد میرا معمول یہ ہوتا ہے کہ میں علی الصبح اٹھوں اور قدرت کی رنگینیوں کا نظارہ کروں کیونکہ قدرت کی ان رنگارنگ خوبصورتیوں میں میرے لیے زندگی کا سامان ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنے حالیہ ایک سفاری دورے کا بھی احوال بیان کیا اور بتایا کہ وہ چینی دوستوں اور مہمانوں کو ہمراہ لے کرجنگل میں گئے جہاں میں صاف اور قدرتی ماحول میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ اہم اجلاس کیے بلکہ کھانا بھی اپنے ہاتھ سے بنا کرانہیں کھلایا۔