.

"داعش" بمقابلہ جاپانی"آئی ایس چان "

جاپانی دوشیزہ کی "داعش" کی پیروڈی کی منفرد کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت دنیا بھرمیں شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کی سفاکیت اور پیشہ وارانہ افواج کو شکست دیتے ہوئے ڈرامائی انداز میں دو بڑے عرب ملکوں کے وسیع وعریض رقبے پر قبضہ کرنے اور اپنی خود ساختہ خلافت قائم کرنے پر مرکوز ہے۔ "داعش" کی یہ سفاکیت اور خون خواری عالمی سطح پر ضرب المثل بن چکی ہے اور غیرمسلم نوجوان اور بچے اس کی "پیروڈی" کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جاپان کی ایک انیس سالہ دوشیزہ "چان" کی داعش کی پیروڈی کا دلچسپ احوال بیان کیا ہے۔ جاپانی "ISIS Chan" کے نام سے انٹرنیٹ پر شہرت پانے والی دو شیزہ نے رواں سال کے شروع میں "مانگا" جاپانی کارٹون تیار کیا جس میں اس نے داعشی جنگجوئوں کے مخالفین سے نمٹنے کے مختلف طریقوں کی خاکوں کے ذریعے نقل اتارنے کا دلچسپ مظاہرہ کیا۔ ایک تصویر میں اس نے خود کو "گمنام ہیکرز" کی شکل میں ظاہر کیا جو داعش کی حمایت میں مخالفین کے انٹرنیٹ ڈیٹا تک رسائی کی کوشش کرتے ہوئے روپ اپناتے ہیں۔

جاپانی "داعشی چان" آبائی تعلق جاپان کے ایک دور افتادہ علاقے سے ہے مگراس کی شہرت اس وقت چار دانگ عالم میں موجود ہے۔ انٹرنیٹ پر کسی بھی سرچ انجن پر آپ "ISIS" لکھیں تو اس کے مطلوبہ نتائج میں کہیں نا کہیں "چان" بھی موجود ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سات سمندر پار امریکا میں سوشل میڈیا میں کافی مقبول ہو رہی ہے۔

داعشی جنگجو تو مخالفین کے سرقلم کرتے ہیں اور ان کے تیز دھار خنجر دنیا بھرمیں شہرت اختیار کررہے ہیں مگر "داعش" کی پیروڈی کرتے ہوئے"چان" کسی کا سر تو قلم نہیں کرتی مگر وہ تربوز کاٹتے دیکھی جاسکتی ہے۔

چان کی خاکوں کی شکل میں بنی تصاویر کو دیکھتے ہی پہلی نظرمیں آپ یہ پہچان نہیں کرسکتے کہ آیا یہ صرف ایک پیروڈی ہے کیونکہ اس کی نیلی آنکھیں، چہرے پرنقاب، سیاہ بال اور جسم پرسیاہ لباس سے وہ داعشی دوشیزہ ہی لگے گی مگر یہ سب اس کا "داعش" کی نقل اتارنے کا فن ہے۔