.

تہران معاہدے سے مشکلات حل نہ ہوں گی: جرمن وزیر

جرمنی اور سعودی عرب برسوں سے علاقائی پارٹنر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ باقی ملکوں کی طرح جرمنی کو بھی مغربی دنیا اور ایران کے مابین طے پانے والے معاہدے سے ہٹ کر خدشات لاحق ہیں۔ ان میں تہران کی بشار الاسد حکومت اور حزب اللہ جیسی ملیشیا کی حمایت قابل ذکر ہیں۔ ایران ایسی مشکلات میں گھرا ہوا ہے جن کا حل نیوکلیئر معاہدے کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔

فرانک والٹر شٹائن مائر کا تعلق جرمن سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے جس کا شمار ملک کی سب سے بڑی اور قدیم ترین سیاسی جماعت میں ہوتا ہے۔

العربیہ: آپ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے سے متعلق خلیج کی عرب ریاستوں کی تشویش کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا آپ کو ان خدشات کے ازالے کی قابل اطمینان ضمانت دی گئی ہیں؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: مجھے علم ہے کہ ایرانی بالادستی کی کوشش سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔ یہ خدشات نیوکلیئر معاملات سے ہٹ کر ہیں۔ ہم شام میں ایران کے کردار، عراق میں شیعہ ملشیاوں اور حزب اللہ کی حمایت جیسے معاملات کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ یہ معاملات ایران مغربی دنیا کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کر کے بھی حل نہیں کر سکے گا۔ تاہم اس کے ساتھ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ویایا معاہدہ ایک لحاظ سے علاقائی امن کا بھی ضامن ہے۔ اس معاہدے کے بغیر ہمارا سامنا سنہ 2013ء کی صورتحال سے ہوتا کہ جس میں ایران تمام تر پابندیوں کے باوجود ایٹم بم بنانے کے قریب تھا۔

ہم نے بارہ برس پہلے ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز سے ہی خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مسلسل اور مضبوط رابطہ استوار رکھا۔ آخر کار ہم ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ جس نے ایران کے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے تمام ممکنہ ذرائع موثر طور پر بند کر دیئے۔ اس امر کی باقاعدہ یقین دہانی کی جا سکتی ہے۔ فیصلہ کن امر یہی ہے کہ ویانا معاہدے کے نتائج پر عمل درآمد کیا جائے، اب ہم اپنی تمام تر توجہ اسی بات پر مرکورز رکھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ویانا معاہدہ ایران کے اندر بھی ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات اور کھلے پن کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو مزید توانا بنائے گا۔

العربیہ: اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان سے آپ کے اچھے تعلقات کیا ایران کے ساتھ آپ کے اچھے تعلقات کی وجہ سے ہیں۔ ان تعلقات کی ماہیت کیا ہے؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: جرمنی، فرانس اور برطانیہ ہی وہ ممالک ہیں جنہوں نے ایران کو پرامن مقاصد کے اپنا ایٹمی پروگرام روکنے کے لئے مذاکرات کا آغاز کیا کیونکہ واشنگٹن تو تہران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لئے سرے ہی تیار نہیں تھا۔

ایران حکومت کے ساتھ گہرے اختلافات کے باوجود جرمن اس بات کی وکالت کرتا چلا آیا کہ تہران سے رابطہ نہیں توڑنا چاہئے۔ اب بھی ہم اسی فلسفے کے قائل ہیں کہ تنازعات کی صورت میں پارٹنرز کے درمیان بات کے چیت کے چینل قائم رہنے چاہیں۔

العربیہ: ترکی کی جانب سے شمالی شام میں داعش سے پاک 'فری زون' کے قیام کی کوششوں کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیز کیا آپ شامی بحران کا مستقبل قریب میں کوئی حل دیکھتے ہیں؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: اقوام متحدہ کی جانب سے شامی تنازع کے پرامن حل کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس ناکامی کی وجہ عالمی ادارے میں اتحاد کی کمی اور روس۔امریکا کے متضاد مفادات ہیں۔ مجھے مخلصانہ طور پر امید ہے کہ ہم اس بحران پر قابو پا لیں گے چاہے ماسکو، بشار الاسد حکومت کے کتنے ہی قصیدے پڑھے۔ علاقے کے تمام ملکوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ بہرحال شام کا انتشار ان کے مفاد میں بھی نہیں ہو گا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام ڈی میستورا نے مسئلے کے حل کی خاطر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک درست کوشش ہے۔

جہاں تک 'محفوظ علاقے' کی بات ہے تو یہ کوئی اچھوتا یا نیا خیال نہیں۔ تاہم خطے میں سرگرم دسیوں ملیشیاوں اور تنظیموں کی موجودگی میں اصل چیلنج یہی ہے کہ تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے اور کون تنازع کو مزید ہوا دیئے بغیر اس کی ذمہ داری قبول کرے۔

العربیہ: ایرانی حکومت کے عرب امور میں مداخلت سے متعلق کردار پر جرمنی کا کیا نقطہ نظر ہے۔ اس مداخلت کا آغاز شام، لبنان، عراق، بحرین سے ہوتا ہوا اب یمن تک آن پہنچا ہے؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: ہم اس بات کا حقیقت پسندانہ طور پر جائزہ لیتے ہیں۔ حزب اللہ کے توسط سے بشار الاسد حکومت کی وحشت ابتک سیکڑوں زندگیوں کے چراغ گل کر چکی ہے۔ آپ کو رونما ہونے والے واقعات کا بنظر غائر جائزہ لینا ہو گا۔ شام کی صورتحال بحرین سے قطعی مختلف ہے۔ مجھے اس بات کی بہت تشویش ہے کہ نہ صرف شام اور عراق بلکہ گلف سے یمن تک یہ مہلک سوچ فروغ پا رہی ہے کہ ہمیں درپیش سیاسی تنازعات کو سیاسی طور پر حل نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ سنی اور شعیہ کے درمیان لاینحل دشمنی کا سلسلہ موجود ہے۔

العربیہ: یورپی ملکوں میں جرمنی کو سب سے زیادہ تارکین وطن کو اپنے ہاں بسانے کا اعزاز حاصل ہے۔ جرمنی کس حد ان تارکین وطن، بالخصوص مسلمانوں کو، اپنے معاشرے میں مکمل طور پر ضم کرنے میں کامیاب رہا؟ کیا آنے والے برسوں میں نئے تارکین وطن کی جرمنی میں آبادکاری کی غرض سے قوانین میں کسی قسم کی مزید سختی کا امکان ہے؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: گذشتہ برس امریکا کے بعد جرمنی تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے والا دوسرا بڑا ملک تھا۔ ہمارا معاشرہ اور معیشت دنیا بھر سے آنے والے ایسے پرعزم افراد کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتی ہے اور دوسری جانب یہ تارکین وطن بھی ترقی یافتہ ملکوں کی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔

ہم نے شام سے ہمدردی کی بنیاد پر پناہ گزینوں کو بسانے کی پالیسی اپنائی۔ اگرچہ ہماری شام سے سرحد نہیں ملتی اس کے باوجود ہمارے ہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ شامی مہاجر آباد ہیں۔

بدقسمتی سے دنیا بھر کی طرح جرمنی میں تارکین وطن کی آباد کار مخالف مٹھی بھر مگر انتہائی منہ پھٹ اقلیت موجود ہے جو آج بھی ازکار رفتہ نعرے لگا کر سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جرمنی شہریوں کی بڑی اکثریت ان خیالات کی تردید کرتی ہے۔ پورے ملک میں ہزاروں جرمن شہری دیہات، قصبات اور بلدیات میں ایسے شامی مہاجرین کی مدد کے رضاکار بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

العربیہ: جرمنی سعودی عرب اور جی سی سی رکن ملکوں کی مارکیٹوں میں اپنی معاشی سرگرمیوں میں کیسے اضافہ کرے گا؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں میں جرمن معیشت کے بھرپور موجودگی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ جرمنی کمپنیاں دنیا بھر میں اپنے اعلی معیار کی وجہ سے کامیاب ہیں۔ جرمن انجینئرنگ اپنی ذات میں ایک برانڈ کا درجہ رکھتی ہے۔

اس سے ہٹ کر خلیجی ملکوں میں جرمن کمپنیاں کئی دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔ انہیں اس بات کا مکمل ادارک ہے کہ آپ کو مضبوط تعلق بنانا ہے۔

سعودی عرب اور خلیجی ملکوں میں متعدد جرمن کمپنیوں نے خود مال تیار کرنا شروع کر رکھا ہے اور ہم نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ مستقبل کے لئے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہی ایک علاقہ ہے کہ جہاں جرمنی بہت مدد کر سکتا ہے۔

العربیہ: آپ آنے والے دنوں میں سعودی عرب اور جرمنی کے تعلقات کے کیسے امکانات دیکھتے ہیں؟

جرمن وزیر شٹائن مائر: ریاض اور جرمنی کئی برسوں سے ایک دوسرے کے پارٹنرز ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور ایک دوسرے پر اعتبار کرتے ہیں۔ اپنے علاقوں میں ہم دونوں کا کردار قائدانہ ہے۔ ہم دونوں گروپ 20 کے رکن ہیں۔ ہماری حکومتیں مل کر کام کرنے میں یقین رکھتی ہیں۔ چاہے یہ تعاون مشرق وسطی میں بحرانوں سے نپٹنے کے بارے میں ہو یا پھر توانائی اور ماحول کے تحفط کے بارے میں۔

دونوں ملکوں کے درمیان باہمی احترام موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ امور پر ہمارا اتفاق نہیں بھی ہوتا، لیکن یہ اختلاف ہمیں ایک دوسرے کا مختلف شعبوں میں تعاون حاصل کرنے سے نہیں روکتا۔ تضادات اور تنازعات سے بھری دنیا ہیں مضبوط پارٹنر کو پرامن مستقبل اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا۔