.

امریکا کی داعش مخالف فضائی مہم، 459 شہری ہلاک

عراق، شام میں گذشتہ ایک سال کے دوران فضائی حملوں میں داعش کی 15 ہزار ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ ایک سال سے جاری فضائی حملوں میں چار سو انسٹھ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

انتہا پسندوں کے خلاف بین الاقوامی فضائی حملوں کی تفصیل جمع کرنے والے ایک پراجیکٹ ''فضائی جنگیں'' (ائیر وارز) نے سوموار کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں یہ اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں میں ستاون فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ''دوستانہ فائرنگ'' کے اڑتالیس واقعات میں بھی عام شہری مارے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور شام میں فضائی حملوں میں داعش اور دوسرے گروپوں کے پندرہ ہزار سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم ائیر وارز کا کہنا ہے کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات کی تصدیق میں اسے مشکلات درپیش رہی ہیں۔

امریکا نے 8 اگست 2014ء کو عراق میں اور 23 ستمبر کو شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ بعد میں بعض مغربی اورعرب ممالک بھی داعش کے خلاف اس فضائی میں امریکا کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوگئے تھے۔گذشتہ سال سے اب تک امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے عراق اور شام میں اٹھاون سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکا نے اب تک ان حملوں میں صرف دو شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے۔یہ دو بچے تھے جو شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ پر گذشتہ سال ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔امریکی فوج کی جانب سے اس واقعے سے متعلق مئی میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں دو بالغ افراد زخمی ہوئے تھے۔

''فضائی جنگوں'' نے دونوں ممالک میں دو یا زیادہ قابل اعتماد ذرائع کی بنیاد پر یہ اعداد وشمار فراہم کیے ہیں۔اس نے بالعموم تصاویری اور ویڈیو شواہد پر انحصار کیا ہے۔اس گروپ نے فضائی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد وشمار فراہم کرنے کے لیے صحافیوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک غیر منافع بخش شفاف منصوبہ ہے۔لیکن اس نے اپنی پالیسی کی وضاحت نہیں کی ہے۔

عراق میں امریکا کی قیادت میں فرانس ،برطانیہ، بیلجیئم، نیدر لینڈز،آسٹریلیا ،ڈنمارک اور کینیڈا کے لڑاکا طیارے داعش کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔اردن نے بھی شام کے علاوہ عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں لیکن اس گروپ نے ان کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

شام میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف فضائی مہم میں سعودی عرب ،اردن ،بحرین اور متحدہ عرب امارات شریک ہیں۔کینیڈا نے اپنے طور پرمارچ میں شام میں داعش پر فضائی حملے کیے تھے جبکہ برطانیہ کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے بھی شام کی فضائی حدود میں نگرانی کے لیے پروازیں کرتے رہتے ہیں۔

اس گروپ کے علاوہ برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق بھی شام میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تفصیل جاری کی ہے۔یہ گروپ شام میں موجود اپنے نیٹ ورک اور حکومت مخالف رضاکاروں کی فراہم کردہ اطلاعات پر انحصار کرتا ہے۔شامی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ شام میں داعش مخالف فضائی مہم کے آغاز کے بعد سے ایک سو تہتر شہری مارے گئے ہیں اوران میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے تریپن بچے بھی شامل ہیں۔

شام کے شمالی صوبوں الحسکہ ،الرقہ ،حلب اور دیرالزور میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور تیل کے کنووں کے نزدیک فضائی حملوں میں شہریوں کی زیادہ تر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ سب سے تباہ کن بمباری 4 مئی کو داعش کے زیر قبضہ شمالی گاؤں بئیر محلی میں کی گئی تھی اور امریکی اتحادیوں کے فضائی حملے میں چونسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں اکتیس بچے تھے۔

تب پینٹاگان کے ترجمان نے اس فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سرے سے انکار ہی کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں جن سے یہ پتا چل سکے کہ اس گاؤں میں عام شہری موجود تھے۔شام میں موجود حزب اختلاف کے دوسرے گروپوں نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

آبزرویٹری کے مطابق 8 جون کو امریکا کی قیادت میں اتحاد نے شام کے شمالی علاقے میں واقع داعش کے زیر قبضہ ایک گاؤں دلِ حسن پر فضائی بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔