.

ابھا مسجد دھماکے کے بنگالی شہداء کے ساتھی غم سے نڈھال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کو برصغیر کے مسلمانوں کا دوسرا وطن سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں حرمین شریفین کی زیارت اور وہاں پر کام کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ سعودی باشندے بھی تارکین کے ساتھ باہمی احترام، محبت اور بھائی چارے کا ایسا سلوک کرتے ہیں کہ دیکھنے والے انہیں سگے بھائی سمجھتے ہیں۔

حال ہی میں ابھاء کے مقام پر پولیس کی ایمرجنسی سروسسز ہیڈکوارٹر کی مسجد میں خودکش حملے میں پندرہ افراد شہید ہوئے۔ شہداء میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تین شہری بھی شامل تھے۔ مسجد کی صفائی اور دیکھ بحال کی خدمت سر انجام دینے والوں کی شہادت سے ان کے ساتھ کام کرنے والے زندہ بچ جانے والے بنگالی دوست غم سے نڈھال ہیں۔

سوزن اور اس کے بنگالی شہید دوست کی رفاقت کئی سال پر محیط تھی۔ دونوں باہمی محبت اور احترام کے اٹوٹ رشتے میں پروئے ہوئے تھے۔ دونوں نہ صرف ایک ہی کام کرتے تھے بلکہ دونوں کی رہائش بھی ایک ہی جگہ تھی۔ یہی وجہ ہے ساتھی کے بچھڑ جانے سے سوزن کی زندگی ویران ہوگئی ہے۔

بنگالی دوست کی بم دھماکے میں شہادت کی خبر سوزن پر بجلی بن گری۔ اس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے نہایت غمگین اور رقت آمیز لہجے میں شہید کے بارے میں بات کی اور کہا کہ آج میں اپنے کام پر آیا ہوں میرے دماغ میں اپنے بنگالی دوست کے سوا کوئی چیز نہیں۔ میں سب کچھ بھول چکا ہوں۔ میں چاروں طرف اسے کام کرتے دیکھتا ہوں، لیکن حقیقت کی دنیا میں وہ میرے ساتھ نہیں ہے۔ اس کا کمرہ خالی پڑا ہے۔ اس کے کمرے اور سامان کو دیکھتے ہی اس کی یاد اور جدائی کا دکھ اور بڑھ جاتا ہے۔

اپنے بنگالی دوست کی جدائی میں غم سے نڈھال صرف سوزن ہی نہیں بلکہ تین دیگر بنگالیوں کے ساتھی بھی اسی طرح سخت دکھی ہیں۔ شہید ہونے والے دوسرے بنگالیوں میں سے ایک کی شادی صرف چار ماہ قبل ہوئی تھی۔ دوسرے دونوں شہید بھی مسجد کی صفائی ستھرائی پر مامور تھے۔ ان کے ساتھی بھی غمگین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے بنگالی ان کے بھائیوں کی طرح تھے پانچوں ایک دوسرے کو بھائی کا احترام اور محبت دیتے۔

سعودی عرب کی حکومت نے اپنے ہاں مقیم غیر ملکیوں کو قابل قدر حقوق دے رکھے ہیں۔ سعودی حکام بھی بنگالی شہریوں کی خدمات کے معترف ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس ایمرجنسی سروسسز کے سربراہ نے ہسپتال میں زیر علاج دوسرے بنگالی شہریوں کی عیادت کی۔