.

داعش کے جہادی جان کی برطانیہ پر حملے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے بدنام زمانہ سیاہ پوش قصاب جہادی جان نے شام میں پہلی مرتبہ نقاب اتار کر اپنی فلم بنوائی ہے اور اس نے سرقلم کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے اور برطانیہ پر حملے کی دھمکی دی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اخبار کو اتوار کو یہ ویڈیو موصول ہوئی ہے اور اس میں ڈھاٹا باندھے ایک شخص کو دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جہادی جان ہے۔

اس فوٹیج میں کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے لیکن رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ مکمل ویڈیو سے سنی گئی آواز میں نمودار ہونے والا شخص برطانوی لب ولہجے میں یہ کہہ رہا ہے کہ '' میں سرقلم کرنے کا سلسلہ جاری رکھوں گا اور داعش کے لیڈر (خلیفہ ابوبکر بغدادی) کے ساتھ برطانیہ آؤں گا''۔

العربیہ نیوز کو اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے مگر اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قریباً دوماہ قبل داعش کے زیر قبضہ شام کے جنوب مشرقی شہر دیرالزور میں موبائل فون کے ذریعے فلمائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جہادی جان کی اصل شناخت کا اس سال فروری میں پتا چلا تھا اور اس کو محمد اموازی کے نام سے شناخت کیا گیا تھا،اس کی عمر ستائیس سال ہے اور وہ لندن کا رہنے والا ہے۔

اس کے بعد اس کی یہ پہلی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔اس کو باغی گروپ جیش الحر کے جنگجوؤں نے خفیہ طور پر حاصل کیا تھا اور انھوں نے اس کو بلغاریہ میں مقیم اپنے ایک ساتھی ابو راشد کو بھیج دیا تھا۔

اس کو پھر استنبول میں جیش الحر سے وابستہ ایک باغی کو مکمل دکھایا گیا ہے اور اس نے ڈیلی میل کو یہ بتایا ہے کہ''وہ کیمرے کی طرف دیکھ کر یہ کہہ رہا ہے کہ ''میں محمد اموازی ہوں۔میں بہت جلد خلیفہ کے ساتھ برطانیہ واپس جاؤں گا''۔

اس سے پہلے جہادی جان کو داعش کی جانب سے جنوری میں جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا گیا تھا۔اس میں وہ ایک جاپانی یرغمالی کینجی گوٹو کا سرقلم کررہا تھا۔اس نے شام میں داعش کے زیر حراست سات غیرملکیوں کے سرقلم کیے تھے اور ان کی ویڈیوز انٹر نیٹ پر پوسٹ کی گئی تھیں۔ان میں دو برطانوی شہری بھی شامل تھے۔

جہادی جان کو اس کے برطانوی لب ولہجے کی وجہ سے بیٹل جان لینن کے نام پر یہ نام دیا گیا تھا۔اس کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اسی نے اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف،ایک اور امریکی صحافی جیمز فولی ،برطانوی امدادی کارکنان ڈیوڈ ہینس اور ایلن ہیننگ اور امریکی امدادی کارکن عبدالرحمان قسیج کو بے دردی سے ذبح کیا تھا۔وہ جاپانی یرغمالیوں ہارونا یوکاوا اور کینجی گوٹو کے قتل سے قبل بھی ان کے ساتھ ویڈیو میں نمودار ہوا تھا۔اس کا آبائی تعلق کویت سے ہے۔وہ لندن میں زیرتعلیم رہا تھا اور ایک کمپیوٹر پروگرامر ہے۔