.

قاسم سلیمانی، نوری المالکی کو بچانے کے لئے سرگرم ہو گئے

پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ کا دورہ کربلاء، علی السیستانی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی تہران کے حمایت یافتہ سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو احتساب سے بچانے کے لئے سرگرم ہو گئے ہیں۔

'العربیہ' نیوز چینل نےعراقی ذرائع کے حوالے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قاسم سلیمان نے دو دن قبل عراق کا دورہ کیا تاکہ وہاں ایران نواز حکومت کی کرپشن کے خلاف عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ ان کے دورے کا اہم مقصد سابق وزیر اعظم کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا جس کی کرپشن کے چرچے زبان ردعام ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قاسم سلیمانی نے عراقی شہر کربلاء میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ کا دورہ کیا اور شہر کے معروف عوامی بازار بھی گئے۔ اس موقع پر 'الحشد الشعبی' ملیشیا کے کمانڈر انجنیئر ابو مھدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے ملک سیاسی اور عوامی حلقوں کے اندر تناؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔

'ارم' نیوز نیٹ ورک نے 'الحشد الشعبی' کے ایک رہنما، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، کے حوالے سے بتایا کہ کربلاء میں قاسم سلیمانی کی موجودگی کا مقصد اہل تشیع کے مرجع خلائق شخصیت علی السیستانی تک یہ پیغام پہنچانا مقصود ہے کہ وہ رائے عامہ کو ٹھنڈا رکھیں کیونکہ وسطی اور جنوبی عراق کے متعدد شہروں میں عوامی احتجاج کے دوران نوری المالکی اور ان کی سابقہ حکومت کے متعدد عہدیداروں کے خلاف مقدمات چلانے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ نوری المالکی نے جمعرات کے روز ایران کے چھ روز دورہ کے بعد عراق واپس آئے۔ دورے کے دوران انہوں نے ایرانی عہدیداروں بشمول رہبر انقلاب علی خامنہ ای، صدر حسن روحانی سے ملاقاتیں کیں۔ یاد رہے کہعراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام کے تحت نائب وزیر اعظم کا عہدہ ختم کرنے کے بعد نوری المالکی کا دورہ تہران اہم ہے۔

قاسم سلیمانی کی مدینہ شہر میں گشت کے ساتھ ہی ایران نواز 'بدر' ملیشیا عراق میں غیر ملکی سفارتخانوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں آگ سے کھیلنے کے بارے میں خبردار کر رہی ہے۔

بغداد کے سیاسی حلقوں کی جانب سے قاسم سلیمانی کے حالیہ دورہ کربلاء اور عراق کے بعد متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایسے وقت کہ جب عراقی حکومت اپنے اصلاحاتی پیکیج کے ذریعے رائے عامہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو ایسے میں پاسدران انقلاب کے سرکردہ رہنما کے دورہ عراق سے کیا مقصد حاصل کرنا مقصود ہے۔ ایسے سوالات زیادہ تر ملک کے وسطی اور جنوبی شہروں میں اٹھائے جا رہے ہیں کہ جہاں شیعہ آبادی اکثریت میں ہے۔

ان علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے مظاہروں میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملکی سیاسی معاملات کو دینی رہنماؤں سے دور رکھا جائے۔ نیز فرقہ وارانہ جذبات کو کنڑول کیا جائے اور بدعنوان سرکردہ سیاسی عہدیداروں کا محاسبہ کیا جائے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی 'فارس' نے سلیمانی کے دورہ عراق کی خبر اس جلی سرخی کے ساتھ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ 'ایران کے اعلی مشیران عراق میں'۔ خبر کے ساتھ ان کی کربلاء شہر میں چلتے پھرتے کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔

عراقی اور ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے جنرل قاسم سلیمان نے سرکردہ عراقی عالم دین علی السیستانی، عبدالمھدی الکربلائی اور احمد الصافی سے ملاقاتیں کیں۔