.

ری پبلکن صدارتی امیدوار کی ٹی وی اینکروں سے گرما گرمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی نامزدگی سے پہلے ہی آپے سے باہر ہوگئے ہیں اور وہ ہسپانوی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹیلی ویژن کے صحافی کی کسی بات پر اتنے آگ بگولا ہوئے کہ انھیں اپنی نیوزکانفرنس سے ہی نکال باہر کیا ہے۔

صدارتی امیدوار اور اینکر جارج راموس کے درمیان یہ توتکار ایک حالیہ نیوز کانفرنس میں سوال وجواب کے سیشن کے دوران ہوئی ہے۔یہ نیوز کانفرنس امریکا کے متعدد کیبل نیٹ ورکس پر براہ راست دکھائی جارہی تھی۔

صحافی راموس اور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس سے پہلے بھی صدارتی امیدواری کے لیے مہم کے دوران ٹاکرا ہوچکا ہے۔ان کے درمیان خاص طور پر تارکین وطن اور ٹرمپ کے کامیابی کی صورت میں ملک میں غیرقانونی طور پر مقیم لوگوں کو بے دخل کرنے کے منصوبے کے مسئلے پر گرما گرمی ہوچکی ہے۔

اس نیوزکانفرنس کے دوران جب راموس سوال کے لیے کھڑے ہوئے اور انھوں نے ٹرمپ سے تارکین وطن کے بارے میں سوال پوچھنا چاہا تو انھوں نے کسی اور کو سوال کرنے کا کہہ دیا۔جب راموس نے بالاصرار سوال کرنا چاہا تو ری پبلکن صدارتی امیدوار انھیں ڈانٹ پلاتے ہوئے بولے:''معاف کیجیے،آپ بیٹھ جائیَں۔آپ کو نہیں پکارا گیا تھا۔بیٹھ جائیے''۔

اس پر صحافی یوں گویا ہوئے:''مجھے سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے''۔ٹرمپ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا:''یونی ویژن واپس چلے جائیے''۔اس کے بعد سکیورٹی کے عملے نے اس صحافی کو کمرے سے باہر نکال دیا۔

راموس کو کمرے سے نکال باہر کرنے کے بعد مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ''انھیں اس رپورٹر سے کوئی پَرخاش نہیں تھی بلکہ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ وہ قاعدے، ضابطے کی پاسداری کرے۔اس نے کسی ترتیب کے بغیر سوال کرنے کی کوشش کی تھی۔میں دو سیکنڈز میں سوال لے سکتا تھا لیکن اس نے اٹھ کر بولنا شروع کردیا تھا''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''اب اگر وہ واپس آجاتے ہیں تو میں بُرا نہیں مانوں گا''۔اس کے بعد راموس واپس کمرے میں آگئے۔مسٹر ٹرمپ نے ان کا خیرمقدم کیا اور ان سے کہا کہ وہ تارکین وطن سے متعلق اب سوالات کرسکتے ہیں۔

بعد میں جارج راموس نے اعتراف کیا ہے کہ انھیں ٹرمپ کے ساتھ ان کے تارکین وطن سے متعلق غیرمنطقی منصوبے کے بارے میں شکایت تھی۔اس کے تحت امریکا میں غیر قانونی طور مقیم ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو ملک بدر کردیا جائے گا۔مسٹر راموس نے سوموار کے روز سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔جب وہ تارکین وطن سے متعلق گفتگو کر رہے ہوتے ہیں تو دراصل مجھ سے متعلق ہی گفتگو ہورہی ہوتی ہے''۔

ڈونلڈ ٹرمپ جارحانہ لب ولہجے میں بات کرنے کے عادی ہیں اور ان کے بہت سے حامی یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنے ذہن سے بات کرتے اور سچ بولتے ہیں۔ان سے ان کے فاکس نیوز کی میزبان میجین کیلی کے ساتھ تنازعے کے بارے میں بھی سوالات پوچھے گئے تھے۔مس کیلی 6 اگست کو ری پبلکن پارٹی کے مباحثے کے دوران ماڈریٹر کے فرائض انجام دی رہی تھیں اور انھوں نے ٹرمپ سے سخت سوالات پوچھے تھے۔بس اسی پر وہ آگ بگولا ہوگئے تھے۔

انھوں نے کیلی کے بارے میں نازیبا ٹویٹس بھی کی تھیں جس پر فاکس نیوز کے چئیرمین راجر ایلز کو بھی میدان میں آنا پڑا اور انھوں نے ''ناقابل قبول'' اور ڈسٹرب کرنے والے حملے پر مسٹر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کیا تھا لیکن انھوں نے مزید جوابی وار شروع کردیے تھے اور انھوں نے ٹویٹر پر لکھا:"مجھے میجین کیلی کی کوئی پروا نہیں ہے اور میں ان سے معافی بھی نہیں مانگوں گا''۔ ''انھیں غالباً مجھ سے معافی مانگنی چاہیے لیکن مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے''۔