.

ملکہ برطانیہ کی 61 برس قبل عدن آمد: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن میں ان دنوں #برطانیہ کے شاہی خاندان کی سربراہ ملکہ ایلزابیتھ کی املاک کی فروخت کی خبر سوشل اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کا ایک بڑا موضوع ہے۔ ملکہ ایلزابیتھ کی جنوبی یمن کے شہر #عدن میں کون سی املاک تھیں جنہیں کوڑی کے بہائو فروخت کیا گیا؟ اس سوال کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ مگر سوشل میڈیا پر ملکہ کے سامان کی سستے داموں فروخت کی خبر نے سماجی کارکنوں اور انٹرنیٹ صارفین کوبہت برہم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ملکہ کے نام منسوب فرنیچر اور دیگر سامان فروخت ہی کرنا تھا تو اس کی مناسب اور معقول قیمت ہی وصول کی جاتی مگر انتظامیہ نے اونے پونے یہ سامان فروخت کر کے قومی خزانے کو بھاری نقصان سے دوچار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس امر کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ جس سامان کو ملکہ ایلزابیتھ کی پراپرٹی قرار دے کر فروخت کیا گیا ہے وہ واقعی ہی میں ان کا تھا یا نہیں، تاہم یہ طے ہے کہ ملکہ عالیہ نے 61 برس قبل 27 اپریل 1954ء کو شاہی تاج پہننے کے بعد جو پہلا دورہ کیا تو وہ عدن ہی کا تھا۔ جہاں انہوں نے "کریسنٹ ہوٹل" میں قیام کیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ملکہ برطانیہ کے دورہ عدن کے موقع پر لی گئی تصاویر حاصل کی ہیں جنہیں ناظرین کی دلچسپی کےلیے پیش کیا گیا ہے۔ ان تصاویر میں کریسنٹ ہوٹل میں منعقدہ فوجی پریڈ کی تصویر بھی شامل ہے۔ یہ فوجی پریڈ ملکہ برطانیہ کے اعزازمیں منعقد کی گئی تھی۔

کریسنٹ ہوٹل، شاہی تقریبات کا مرکز

عدن میں واقع کریسنٹ ہوٹل یمن کی ایک کاروباری شخصیت الشیخ عبدالکریم بازرعہ نے 1928ء میں تعمیر کرایا۔ سنہ 1954ء تک یہ ہوٹل الشیخ عبدالکریم کے کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا۔ سنہ 1954ءمیں یہاں ملکہ برطانیہ نے قیام کیا۔

یہ ہوٹل شاہی تقریبات کے حوالے سے اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہونے والے بڑے بڑے تجارتی، سیاسی اور ثقافتی معاہدے اس ہوٹل میں طے پائے۔ عدن اور عرب دنیا کے شعراء کے مشاہرے، بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والے ثقافتی پروگرامات، برطانوی انٹیلی جنس حکام کے اجلاس، پولیس اورعدن کی حکومت کے کئی اجلاس بھی یہاں منعقد ہوتے رہتے۔

یہ ہوٹل بیسویں صدی کے فن تعمیر کا بھی ایک یادگار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں ماہرین نے جس عرق ریزی سے کام کیا اسے ملکہ برطانیہ نے بھی بہت پسند کیا تھا۔