القاعدہ کے جنگجو داعش کے خلاف لڑ سکتے ہیں: پیٹریاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ امریکا کو شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے مقابلے کے لیے القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے بعض ارکان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

ڈیوڈ پیٹریاس نے سی این این کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے بعض ارکان کو دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے خلاف اتحاد میں شمولیت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے''۔

البتہ انھوں نے وضاحت کی ہے کہ''ہمیں شام میں النصرۃ محاذ کو ایک تنظیم کے طور پر داعش کے خلاف کسی بھی صورت میں استعمال کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعاون کرنا چاہیے''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''النصرۃ میں شامل بعض جنگجو اور شاید بعض عناصر کسی نظریاتی محرک یا سبب کی بنا پر اس کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں بلکہ انھوں نے موقع کی مناسبت سے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی تھی کیونکہ یہ ان کے نزدیک ایک مضبوط قوت تھی اور ان کے پاس کوئی قابل اعتبار متبادل نہیں تھا جبکہ اعتدال پسند حزب اختلاف کو بھی مناسب وسائل مہیا نہیں کیے گئے تھے''۔

ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا تھا کہ ''ان ''قابل مفاہمت'' لوگوں کے ساتھ معاملہ کیا جاسکتا ہے جو النصرۃ محاذ کو چھوڑنے پر آمادہ ہوں گے اور اس تنظیم کے علاوہ داعش اور شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑائی کے لیے اعتدال پسند حزب اختلاف میں شامل ہوجائیں گے''۔

سابق امریکی جنرل کے سی این این کو دیے گئے اس بیان کے بعد منگل کو ڈیلی بیسٹ میں ایک اسٹوری شائع ہوئی ہے جس میں القاعدہ سے وابستہ کسی بھی گروپ یا فرد کے ساتھ مل کر کام کرنے کے حوالے سے امریکا کو درپیش مضحکہ خیز صورت حال کا تذکرہ کیا گیا ہے کیونکہ امریکا یہ موقف رہا ہے کہ وہ القاعدہ یا اس سے وابستہ کسی فرد کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اس نے متعدد امریکی عہدے داروں سے ڈیوڈ پیٹریاس کی اس تجویز پر بات کی ہے۔انھوں نے اس کو سیاسی طور پر زہرناک اور تزویراتی لحاظ سے خطرناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر قریب قریب عمل ناممکن ہے۔

واضح رہے کہ ڈیوڈ پیٹریاس عراق اور افغانستان میں امریکا کی مسلح افواج کے کمان دار رہے تھے۔انھوں نے 2007ء میں عراق میں مزاحمتی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے امریکی فوج کی تعداد بڑھائی تھی۔القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ کو شکست دینے کے لیے سنی قبائل کو امریکی فوج کی حمایت پر راضی کیا تھا اور امریکی فوج کے زیر نگرانی القاعدہ کے خلاف صحوہ (بیداری) کونسل کے نام سے سنی جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیا تشکیل پائی تھی جس نے عراق کے مغربی صوبے الانبار میں القاعدہ سے وابستہ گروپ کی مزاحمتی سرگرمیوں کو کچلنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

بعد میں انھیں سی آئی اے کا سربراہ بنا دیا گیا تھا لیکن اپنی سوانح نگار ملازمہ کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں انھیں عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا اور انھوں نے رواں سال کے اوائل میں اپنی اس ملازمہ کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے اپریل 2015ء میں سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس کو فوجی راز افشا کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دے کر دو سالہ پروبیشن اور ایک لاکھ ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ڈیوڈ پیٹریاس پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی سوانح عمری لکھنے والی خاتون پاؤلا براڈ ویل سے شادی سے ماورا ناجائز جنسی تعلقات قائم کیے تھے اور اس کو فوجی راز فراہم کیے تھے۔اس عورت کے ساتھ معاشقے نے ان کی شہرت کو داغدار کردیا تھا۔وہ امریکی فوج کے چار ستارہ جنرل رہے تھے۔انھوں نے 2011ء میں پاؤلا براڈویل کو خفیہ دستاویزات کے آٹھ بنڈل دیے تھے۔تاہم بعد میں ان سے یہ واپس لے لیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں