.

قائم مقام حج کے عوض اجرت لینا جائز ہے: امام مسجد نبوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد نبوی کے امام الشیخ صلاح البدیر نے کہا ہے کہ کسی دوسرے شخص کی جگہ مناسک حج کی ادائیگی کے عوض اجرت لینا جائز ہے تاہم زیادہ بہتر یہی کے کہ قائم مقام اپنے "مستنیب" سے حج کے صرف ضروری اخراجات وصول کرے، اجرت کا تقاضا نہ کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الشیخ صلاح البدیر نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام حج کی شرعی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے بجائے کسی دوسرے کی طرف سے حج ادا کرنا چاہے تو اس دوسرے شخص ہی کی جانب سے احرام باندھے۔ انہوں نے قائم مقام حج کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیث بیان کی جس میں کہا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو "شبرمہ نامی شخص کی طرف سے تلبیہ کہتے سنا" آپ نے پوچھا کہ شبرمہ کون ہے؟ کہا کہ میرا قریبی عزیز ہے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنا حج ادا کیا ہے تو اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا پہلے اپنی ذات کے لیے حج کرو پھر شبرمہ کےطرف سے۔

امام مسجد نبوی کا کہنا تھا کہ کسی شخص کا بہ یک وقت دو افراد کی طرف سے احرام باندھنا جائز نہیں۔ حج کرنے والا اپنی ذات کی طرف سے احرام باندھے گا یا کسی دوسرے کی طرف سے۔ اگر کوئی شخص پہلے عمرہ کے لیے کی طرف سے احرام باندھتا ہے اور عمر کے بعد وہ حج کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے احرام باندھ سکتا ہے۔

الشیخ البدیر کا کہنا تھا کہ اولاد کے لیے والدین کی طرف سے فریضہ حج ادا کرنا مستحب ہے۔ بشرطیکہ وہ فوت ہوچکے ہوں یا خود حج کرنے سے معذور ہوں۔ والدین کی طرف سے حج کرنے والا پہلے ماں کی طرف سے حج کرے کیونکہ نیکی کے کام میں والدہ کی طرف سے آغاز زیادہ مناسب ہے۔