.

بغیر اجازت حج کے خطرات و نقصانات: ویڈٰیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حج کا موسم آتے ہی جہاں دنیا بھر سے مسلمان قانونی طریقے سے فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سرزمین حجاز کا قصد کرتے ہیں وہیں اندرون اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں ایسے عناصر بھی حجاج میں شامل ہونے کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں جن کے پاس حج کے لیے ضروری دستاویزات ہوتی ہیں اور نہ ہی انہیں #سعودی_عرب کی حکومت کی طرف سے حج کی اجازت دی گئی ہوتی ہے۔

پچھلے چند برسوں کے دوران بلا اجازت حج کا رحجان کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کرگیا تو حکومت کو "اجازت بغیر کوئی حج نہیں" کے عنوان سے ایک ہمہ جہت مہم چلانا پڑی۔ اس مہم کا مقصد جہاں قانونی طریقے سے حج کرنے والے فرزندان توحید کو ہرممکن سہولیات مہیا کرنا تھا وہیں غیرقانونی طور پر حجاج میں شامل ہونے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرنا تھی۔ غیرقانونی طور پر حجاج میں شامل ہونے کے کئی نقصان اور خطرات ہیں۔غیر قانونی طور پر حجاج میں گھسنے والوں کی وجہ سے قانونی طور طریقوں سے آنے والوں کے سفر میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ گاہے انہیں تاخیر کا شکار ہونا پڑتا ہے مناسک حج کی ادائی کے دوران مشکلات اٹھانا پڑتی ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت نے جب سے غیر قانونی حج کے خلاف مہم چلائی ہے، اس کے بعد اس رحجان میں کافی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ #خالد_الفیصل کا کہنا ہےکہ اس سال انہوں نے ایک لاکھ 60 ہزار ایسے غیرقانونی عناصر کو حجاج کی صفوں میں شمولیت سے روکا۔

غیرقانونی حج کے خطرات کو اجاگر کرنے کے لیے حال ہی میں ایک میڈٰیا پروڈکشن کمپنی نے دلچسپ ویڈٰیو تیار کی ہے۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ بلا اجازت حج کے کیا کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ ویڈیو میں بیان کردہ اہم خطرات میں امن وامان پر اثرانداز ہونا، حجاج کو فراہم کردہ معیاری سروسز سے بلا جواز فائدہ اٹھانا، حج کے منتظمین اور عملے کے لیے بوجھ بننا اور ایام حج میں غیرضروری رش پیدا کرنا سر فہرست ہیں۔

یہ امرواضح رہے کہ پچھلے آٹھ سال سے سعودی عرب کی حکومت نے جہاں بیرون ملک سے عازمین حج کے لیے قواعد وضوابط میں سختی کی۔ وہیں اندرون ملک سے بھی حکومت کی اجازت کے بغیر حجاج میں شمولیت پر پابندی عاید کردی ہے۔