.

شام میں روسی سرگرمیاں مانیٹر کر رہے ہیں:جنرل ایلن

'بشار الاسد کا ملک کے سیاسی مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہو گا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی "داعش" کے خلاف سرگرم اتحاد میں امریکی صدر براک اوباما کے خصوصی ایلچی جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں اسد رجیم کی فوجی معاونت کے سخت خلاف ہے اور ہم شام میں روس کی فوجی سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا شام کے سیاسی مستقبل میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں دیکھتا۔ شام کے بحران کا حل بشارالاس کےبغیر نکالا جائے گا۔

امریکی عہدیدار نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل ایلن نے کہا کہ شام میں روس کی فوجی مداخلت کی مکمل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم روس کے ساتھ مل کر شام میں پرامن طریقے سے انتقال اقتدار کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہماری کوششوں کا محور و مرکز سیاسی بحران کا خاتمہ اور ملک میں نمائندہ حکومت کا قیام ہے۔ شام میں فوج گردی نہ صرف ملک بلکہ پورے خطے میں انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے۔

"داعش" کے خلاف جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل جون ایلن نے کہا کہ اتحادی فوج کا داعش کے خلاف آپریشن طویل المیعاد ہوسکتا ہے، تاہم ابھی تک ہونے والی کارروائیوں میں کئی اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔

موصل کی آزادی چند ماہ کی گیم

عراق میں دولت اسلامی "داعش" کے زیرتسلط شمالی صوبہ موصل کی آزادی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل ایلن نے کہا کہ موصل کو چند ماہ کے اندر اندر دہشت گردوں سے آزاد کرایا جاسکتا ہے تاہم اس کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ موصل کو "داعش" سے چھڑانے کے لیے چند ماہ لگ سکتے ہیں تاہم کسی ڈیڈ لائن کے بارے میں صرف عراقی حکومت ہی بتا سکتی ہے۔ ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات داعش کے حق میں سازگار نہیں ہیں۔ داعش کی قوت مقامی حکومتوں کی کمزری کا نتیجہ ہے۔ البتہ اب عراقی حکومت پہلے سے مضبوط ہورہی ہے جو داعش کے لیے پیغام موت ہے۔

عراقی قبائل کی قربانیوں کا اعتراف

امریکی عہدیدار جنرل جان ایلن نے داعش اور القاعدہ کے خلاف آپریشن میں عراق کے قبائل کے کردار ان کی قربانیوں کا برملا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عراق کے قبائل نے داعش کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ قبائل کی جانب سے ایسے مضبوط لشکر تیار کیے گئے ہیں جو "داعش" کو شکست فاش دینے اور دوبارہ سراٹھانے سے روکنے کی جرات رکھتے ہیں۔

جنرل جان ایلن نے کہا کہ اتحادی ممالک کے داعش کےخلاف آپریشن کے نتیجے میں داعش کی ریاست مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ داعش کو عراق کے کئی علاقوں سے فرار ہونا پڑا ہے اور تنظیم کو بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔