عراقیوں نے امریکی جنرل کیسی کو کیسے گم راہ کیا؟

عراقی فوج کے سابق جنرل کی العربیہ نیوز سے انکشاف انگیز گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی مارچ 2013ء میں عراق پر چڑھائی کے چند ماہ بعد ہی صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔پھر منظرعام پر آنے والی مذہبی جماعتوں نے کالعدم بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والے فوجی اور سول عہدے داروں سے انتقام لینا شروع کردیا تھا۔

امریکا کی سرپرستی میں نئے عراق میں جنم لینے والی یہ نئی قیادت دو طریقوں سے انتقام لینے کی روش پر عمل پیرا تھی۔اس نے بعث پارٹی کے متعلقین کو یا تو اہم عہدوں سے ہٹا دیا یا پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انھیں ہلاک کرنا شروع کردیا تھا۔

یہ اہم انکشافات عراق میں مشترکہ کارروائیوں کے ذمے دار سابق ڈائریکٹر میجر جنرل غازی عزیزہ نے العربیہ نیوز کے شو ''سیاسی یادداشتیں'' میں گفتگو کے دوران کیے ہیں۔یہ پروگرام طاہر برکی ہر جمعہ کو العربیہ نیوزچینل پر پیش کرتے ہیں۔

جنرل عزیزہ نے اپنی یادداشتوں کا ذکر کرتے ہوئے بعض مذہبی جماعتوں کی جانب سے امریکی انٹیلی جنس اور عراقی سکیورٹی اداروں کو پیش کردہ دہشت گردوں کی فہرستوں کا خاص طور پر تذکرہ کیا۔ان فہرستوں میں ان لوگوں کے نام شامل تھے جن کا دہشت گردی کی کارروائیوں میں کسی نا کسی طرح کا کوئی کردار تھا۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بابل کے شمال میں ''دہشت گردوں''پر ایک حملے کی تیاری کی تفصیل بیان کی ہے۔اس اجلاس میں عراق میں اتحادی فوج کے سینیر کمانڈر جنرل جارج کیسی اور عراقی سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔اجلاس میں اگلی صبح دہشت گردوں کے خلاف حملے کی اہمیت اجاگر کی گئی تھی۔

سابق عراقی جنرل نے اپنے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''میں فہرست میں شامل ناموں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا کیونکہ اس سے پہلے اس کا میرے ساتھ کوئی تبادلہ نہیں کیا گیا تھا۔تاہم جب میں نے فہرست کو پڑھنا شروع کیا تو اس میں شامل ناموں پر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ میں ان میں سے بہت سے لوگوں کو ذاتی طور پرجانتا تھا۔اس میں شامل بہت سے نام سابق عراقی آرمی کے سابق افسروں ،صدام دور کے سرکاری محکموں اور وزارتوں کے سابق عہدے داروں کے تھے۔ان میں سے بعض ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کے حامل تھے۔یہ بات درست تھی کہ ان میں زیادہ تر سابق حکمراں بعث پارٹی سے تعلق رکھتے تھے لیکن وہ دہشت گرد نہیں تھے اور بعث پارٹی کے سول ارکان رہے تھے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''جنرل کیسی نے اجلاس میں موجود لوگوں سے اس آپریشن کے بارے میں رائے طلب کی تھی۔جب میری باری آئی تو میں یوں گویا ہوا:''ہمارے درمیان موجود کوئی ان دہشت گردوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ان دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے سے قبل ہمارے درمیان موجود اس شخص کا صفایا کیا جانا ضروری ہے''۔جنرل کیسی اس پر اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے پوچھا:''یہ کون ہے؟'' میں نے اس کے جواب میں کہا''یہ میں ہوں''۔

اس ردعمل کے بعد کیسی بیٹھ گئے اور میں نے بولنا شروع کردیا اور اجلاس کو بتایا کہ ''فہرست میں شامل لوگوں میں جو خصوصیات پائی جاتی ہیں،میں بھی انہی کا حامل ہوں۔میں ایک محب وطن شہری ہوں۔میں نے سابق حکومت کے دور میں فوج میں کام کیا ہے،میں بعثی تھا مگر میرے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے نہیں ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ مجھے بعد میں نئی حکومت میں کام کرنے کا موقع مل گیا اور ان لوگوں کو ایسا موقع نہیں مل سکا''۔

جنرل عزیزہ کا کہنا تھا کہ اس پر جنرل کیسی نے اجلاس کے شرکاء سے دریافت کیا کہ میرے بیانات میں کتنی صداقت ہے۔بہت سے شرکاء نے جب کہا کہ میری بات درست ہے تو جنرل کیسی نے آپریشن کو ختم کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہا کہ مستقبل میں فوجی کارروائیوں سے متعلق کسی بھی فائل پر عزیزہ کے دستخط ہونے چاہئیں۔

جنرل عزیزہ نے عراق میں بعض سنی علماء کی جانب سے جاری کردہ فتووں کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔ان کے بہ قول :''ان فتووں میں عراقیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکی قبضہ برقرار رہنے کی صورت میں سکیورٹی فورسز اور وزارت دفاع میں بھرتی ہونے سے گریز کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ان فتووں سے عراقی معاشرے کے تمام طبقات کی مسلح افواج میں شمولیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے اور لوگ فوج میں بھرتی سے گریز کرنے لگے تھے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں