.

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے لاکھوں افراد کو بھوک کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں قائم امدادی ادارے آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ اس سال اور آیندہ سال کم سے کم ایک کروڑ افراد کو قحط سالی اور بے موسمی بارشوں کی وجہ سے بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کے تحت اداروں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق صرف افریقی ملک ایتھوپیا میں پینتالیس لاکھ افراد کو امدادی خوراک کی ضرورت ہوگی کیونکہ ایل نینو اثرات اور طویل المیعاد موسمیاتی تبدیلی نے موسم برسات کو بالکل ناقابل پیشین گوئی بنا دیا ہے۔

بحرالکاہل میں حدت ایل نینو کا سبب بنی ہے۔اس کے نتیجے میں دنیا کے بعض حصوں میں موسم خشک ہوتا ہے اور بعض میں سیلاب آجاتے ہیں۔اس سال اکتوبر سے جنوری تک ایل نینو عروج پر رہے گا۔قبل ازیں سنہ 1997ء اور 1998ء میں ایل نینو ہوا تھا۔

آکسفیم کے چیف ایگزیکٹو مارک گولڈرنگ کا کہنا ہے کہ مونجی اور مکئی کی فصلیں خطرے سے دوچار ہیں اور جنوبی افریقا سے وسطی امریکا تک لاکھوں غریب لوگوں کے لیے ان کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں۔

جنوبی افریقا میں پہلے ہی شدید گرم موسم کی وجہ سے فصلیں تباہی سے دوچار ہیں۔جنوبی افریقا میں مکئی کی فصل کی پیداوار میں ایک تہائی کمی واقع ہوچکی ہے اور گرم موسم سے فصلوں کی پیدوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

پڑوسی ملک زمبابوے میں مکئی کی کاشت میں 35 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔خشک سالی کی وجہ سے فارم سیکٹر نے جولائی میں اپنی اقتصادی شرح نمو کو نصف کردیا تھا۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ خوراک وزراعت کے مطابق اس سال خشک موسم کی وجہ سے وسطی امریکا کے ممالک میں مکئی کی پیدوار میں 60 فی صد اور دالوں کی پیداوار میں 80 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

آکسفیم نے بیان میں بتایا ہے کہ موسمی حدت میں اضافے سے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ادارے کے ڈائریکٹر گولڈ رنگ نے حکومتوں اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی بحران کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔