.

بھارت: گائے کے گوشت کی برآمد روکنے کے لیے لیبارٹریوں کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت نے بندرگاہوں سے گائے کے گوشت کی غیر قانونی برآمد کو روکنے کے لیے لیبیارٹریاں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دارالحکومت نئی دہلی میں ایک مسلمان کے گائے کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی افواہ پر ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں سفاکانہ قتل پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

بھارت کی بیشتر ریاستوں نے گائے کو ذبح کرنے پر پابندی عاید کر رکھی ہے اور مسلمانوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر سمیت بعض ریاستوں میں حالیہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر گائے کی قربانی سے روک دیا گیا تھا۔گائے ہندوؤں کے نزدیک ایک مقدس جانور ہے اور اس کو ذبح کرنے والوں کو بعض ریاستوں میں سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔البتہ بھینس کے ذبح کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

بھارت کے نائب وزیرزراعت سنجیو کمار بلیان نے کہا ہے کہ بندرگاہوں پر گائے کے گوشت کو چیک کرنے کے لیے لیبارٹریاں قائم کی جارہی ہیں تاکہ اس کے گوشت کی غیر قانونی برآمد کو روکا جاسکے اور حکومت برآمد کیے جانے والے تمام گوشت کو باضابطہ بنائے گی۔

انھوں نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممبئی کی بندگاہ سے گائے کے گوشت کی برآمد کو روکنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ انھیں گائے کے گوشت کی غیر قانونی برآمد سے متعلق کوئی رپورٹس موصول نہیں ہوئی ہیں لیکن قوم پرست حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے گائے کے ذبیحہ کے معاملے پر سخت دباؤ کا سامنا ہے اور وہ اس پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ گائے کو بچانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

گذشتہ ماہ نئی دہلی کے نواح میں انتہا پسند ہندو بلوائیوں نے ایک پچاس سالہ مسلمان محمد اخلاق کو اس کے گھر سے باہر گھسیٹ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس کو اذیتیں دے کر جان سے مار دیا تھا۔ہندو بلوائیوں نے اس سفاکیت کا مظاہرہ محض اس افواہ پر کیا تھا کہ مقتول محمد اخلاق نے گائے کا گوشت کھایا تھا اور اس کو اپنے گھر میں ذخیرہ کیا تھا۔

اس حملے میں اخلاق کا بائیس سالہ بیٹا شدید زخمی ہوگیا تھا۔ وہ اس وقت ایک مقامی اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج ہے۔بھارت کے سیکولر حلقوں نے محمد اخلاق کے اندوہناک قتل کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو ملک کے سیکولر آئین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

بھارت گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے باوجود بڑا گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔امریکی محکمہ زراعت کی رپورٹ کے مطابق بھینس کے گوشت کی برآمد کی وجہ سے بھارت پہلے نمبر پر ہے۔توقع ہے کہ وہ 2015ء میں چوبیس لاکھ ٹن بڑا گوشت برآمد کرے گا جبکہ اس کے مقابلے میں برازیل بیس لاکھ ٹن گوشت برآمد کرے گا۔