.

القاعدہ اور عبداللہ صالح کے گٹھ جوڑ کی داستان خوں چکاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جزیرۃ العرب کی #القاعدہ نے #یمن کو اپنا مرکز کیوں بنایا؟ مبصرین اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ یمن کی سر زمین میں القاعدہ کو محفوظ ٹھکانے بنانے کا موقع سابق منحرف صدر علی ع#بداللہ_صالح کی جانب سے ایک سازش کے تحت دیا گیا تھا۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پچھلے چار ماہ کے دوران جب قابض #حوثی ملیشیا اور علی صالح کے وفاداروں نے جنوبی یمن میں #عدن کے علاقے پر قبضہ کیے رکھا تو القاعدہ اور اس کے نئے چہرہ #داعش کی جانب سے باغیوں پر کوئی ایک حملہ بھی نہیں کیا گیا۔ مگر جیسے یمن کی آئینی حکومت نے عدن کا قبضہ واپس لیا تو القاعدہ اور اس کے حامی پھر سے متحرک اور سرگرم ہو گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ سابق منحرف صدر علی صالح اور القاعدہ کے درمیان پچھلی ربع صدی سے خفیہ مراسم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب علی صالح کی حامی ملیشیا نے عدن پر قبضہ کیا تو القاعدہ عناصر نے خاموشی اختیار کرلی۔

چند ہفتے قبل جب عدن سے حوثی باغیوں اور علی صالح کے حامیوں کا صفایا کیا گیا تو داعش اور القاعدہ نے ایک بار پھرعدن اور اس کے اطراف کے علاقوں پر حملے شروع کر دیے۔

یہی تجربہ اس وقت #صنعاء میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں کا قبضہ ہے، مگر مجال کہ وہاں پر القاعدہ کی طرف سے کوئی کارروائی کی گئی ہو۔ البتہ جہاں جہاں آئینی حکومت کی وفادار فوج اور ملیشیا موجود ہے وہاں پر داعش اور القاعدہ کے حملے بھی حملے کر رہے ہیں۔

#مصر کے ایک سابق جہادی نبیل نعیم نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نوے کے عشرے میں افغانستان اور عرب ممالک کے جنگجوئوں کی مالی اور عسکری مدد کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں فوج کی نگرانی میں جنگی تربیت بھی دیتے رہے ہیں۔

سابق جنگجو کے بیان کے علاوہ 2014ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی صالح القاعدہ عناصر کو صدر ھادی کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ایجنٹ کے طور پر ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ یوں القاعدہ اور علی صالح کے درمیان ربع صدی پر پھیلا تعلق آج بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر مضبوط ہو چکا ہے۔