.

آیندہ سال ہر ماہ ساڑھے 12لاکھ عمرہ زائرین کی سعودی عرب آمد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرحج ڈاکٹر بندر بن محمد بن حمزہ حجار نے کہا ہے کہ بہت جلد نیا عمرہ نظام اور اس کے قواعد وضوابط متعارف کرائے جائیں گے تاکہ ہرسال ہر سال عمرے کے لیے آنے والے زائرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جاسکے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ آیندہ ہجری سال کے دوران ہر ماہ قریبا ساڑھے بارہ لاکھ زائرین عمرہ کی سعودی عرب آمد متوقع ہے جبکہ اس وقت قریبا چار لاکھ مسلمان دوسرے ممالک سے عمرے کے لیے سعودی عرب آرہے ہیں۔

وزیربند بن آل حجار نے بتایا ہے کہ نئے نظام کو متعارف کرانے کا مقصد زائرین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ خادم الحرمین الشریفین کی حکومت نے مسجد الحرام اور مکہ کی تعمیر وتوسیع کے جن بڑے منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے،ان سے کماحقہ استفادہ کیا جاسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد عمرہ کمپنیوں کے مالکان سے ملاقات کریں گے اور ان سے نئے ہجری سال 1437ھ کے عمرہ سیزن کے حوالے سے منصوبے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انھوں نے عازمین حج اور عمرہ کو بہترین خدمات مہیا کرنے کے لیے تمام ایجنسیوں کے درمیان بھرپور روابط کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''وزارت حج اپنے ای پورٹل کو استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔اس کے تحت ویزے کے اجراء کے لیے چند منٹ درکار ہوں گے۔ہم آیندہ پانچ سال کے دوران عازمین عمرہ کی تعداد کو بڑھا کر دُگنا کرنے کے لیے آن لائن منصوبے کو بہتر بنانے پر کام کریں گے''۔

وزارت حج کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2013ء کے دوران عمرے کے لیے پچاس لاکھ ویزوں کا اجراء کیا گیا تھا اور 2014ء اور 2015ء کے دوران ساٹھ ،ساٹھ لاکھ ویزے جاری کیے گئے ہیں۔توقع ہے کہ آیندہ سال 2016ء کے دوران عمرے کے ایک کروڑ ویزے جاری کیے جائیں گے اور 2018ء تک یہ تعداد بڑھ کر چھے کروڑ ہوجائے گی۔

درایں اثناء ایک اور اطلاع کے مطابق اتوار تک قریبا چھے لاکھ حجاج کرام 2282 پروازوں کے ذریعے سعودی عرب سے اپنے اپنے آبائی ممالک کو لوٹ گئے ہیں۔یہ تمام پروازیں جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہوئی تھیں۔

ہوائی اڈے کے محکمہ اطلاعات اور تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر ترکی الضیب نے بتایا ہے کہ اکتوبر کے آخر تک قریبا نو لاکھ حجاج کرام اپنے اپنے آبائی ممالک کو لوٹ جائیں گے۔حاجیوں کی کثیر تعداد مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بھی روانہ ہوگی۔ان کے علاوہ بحری اور زمینی راستے سے بھی حجاج کرام اپنے آبائی ممالک کو جارہے ہیں۔اس سال قریبا چودہ لاکھ مسلمان دنیا کے دوسرے ممالک سے حج کے لیے حجازِ مقدس آئے تھے۔