.

النصرۃ محاذ: بشارالاسد اور حسن نصراللہ کے سَر کی قیمت مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے وابستہ باغی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے صدر بشارالاسد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے سروں کے قیمت مقرر کردی ہے۔

ابومحمد الجولانی کی سوموار کی شب ایک آڈیو ٹیپ جاری کی گئی تھی۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''جو کوئی بھی بشارالاسد کو قتل کرے گا اور ان کی کہانی کا خاتمہ کرے گا،وہ اس کو تیس لاکھ یورو (چونتیس کروڑ ڈالرز) انعام کے طور پر دیں گے''۔

انھوں نے سوال کیا کہ ''مسلمان کب تک اقتدار کے حریص ایک شخص کے لیے اپنے حقوق سے محروم رہیں گے اور اپنا خون بہاتے رہیں گے۔انھوں نے اس آڈیو میں یہ بھی پیش کش کی ہے کہ ''اگر اسد خاندان کا کوئی فرد شامی صدر کی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے،تو النصرۃ محاذ اس کا اور اس کے خاندان کا تحفظ کرے گا''۔

ابو محمد الجولانی نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو قتل کرنے والے کے لیے بیس لاکھ یورو (بائیس لاکھ ڈالرز) انعام مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کے خاندان یا فرقے ہی کا کوئی فرد یہ کام کرتا ہے تو اس کو بھی اس انعام سے نوازا جائے گا۔

اس آڈیو پیغام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ کے سربراہ نے بشارالاسد کے اقلیتی علوی فرقے کے افراد پر انتقامی حملوں میں تیزی لانے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ روسیوں کی حالیہ فوجی مداخلت کے بعد سنی مسلمانوں کا بلا امتیاز قتل کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس نے بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے فوجی مداخلت کی ہے لیکن وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے گا کیونکہ اس سے پہلے ایران اور حزب اللہ کی جنگی امداد ان کی حکومت کو بچانے میں ناکام ہوچکی ہے۔

الجولانی نے کہا:''اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا کہ جنگ میں تیزی لائی جائے اور اللاذقیہ میں علویوں کے قصبوں اور دیہات کو حملوں میں نشانہ بنایا جائے۔میں تمام دھڑوں سے کہتا ہوں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان دیہات پر سیکڑوں میزائل فائر کریں بالکل ایسے جس طرح سنیوں کے شہروں اور دیہات کو حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے''۔

انھوں نے روس کی مداخلت کو مشرق سے نئی مسیحی صلیبی یلغار قراردیا ہے جو ان کے بہ قول ناکامی سے دوچار ہوگی۔انھوں نے کہا:''شام میں جنگ روسیوں کو ان ہولناکیوں کو بھلا دے گی،جن کا انھوں نے افغانستان میں سامنا کیا تھا۔روس کی نئی مداخلت مسلمانوں اور شام کے دشمنوں کے ہتھیاروں کی آخری چال ہے''۔

روس نے 30 ستمبر کو شام میں باغی جنگجو گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس نے حالیہ دنوں میں شام میں باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیارے شام میں داعش کے اہداف پر بمباری کررہے ہیں۔

لیکن روسی فضائیہ کے بیشتر حملوں کا ہدف صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے لڑنے والے باغی جنگجو گروپ بنے ہیں۔ان میں النصرۃ محاذ بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ روسی طیارے عرب ممالک ،ترکی اور امریکا کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔باغیوں کا کہنا ہے کہ روس ''زمین کو پاک کرو'' پالیسی کے تحت شام میں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان حملوں میں بیسیوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ آزاد ذرائع سے روسی فضائی بمباری سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد وشمار بھی سامنے نہیں آرہے ہیں۔