.

حجاب سے سماعت 30 فی صد کم ہو جاتی ہے: تیونسی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر محمد بن رمضان نے حجاب کے بارے میں ایک متنازعہ بیان دے کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ حجاب سے قوتِ سماعت تیس فی صد تک کم ہو جاتی ہے۔

ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس پر تندوتیز بحث جاری ہے۔وزیرصاحب نے اپنے بیان میں تیونس ائیرلائنز کی ایک فلائٹ اٹینڈینٹ نبیہہ الجلولی کا حوالہ دیا تھا۔اس خاتون کو حجاب اوڑھنے کی پاداش میں معطل کردیا گیا ہے۔

محمد بن رمضان نے نبیہہ کی معطلی کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ حجاب سے قوتِ سماعت میں تیس فی صد تک کمی واقع ہوجاتی ہے جس سے مسافروں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہوجاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایک فلائٹ اٹینڈینٹ کا فریضہ مسافروں کو تحفظ مہیا کرنا ہوتا ہے۔انھوں نے قومی فضائی کمپنی کے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوران پرواز سرکاری وردی کی پابندی کرے۔

واضح رہے کہ تیونس کی ایک انتظامی عدالت نے نبیہہ جلولی کو اپنی ملازمت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی لیکن تیونس ائیرلائنز کی انتظامیہ نے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا ہے اور اس کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ اس خاتون نے کمپنی کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔

صحت عامہ کے ایک ڈاکٹر محمد نجیب نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے تیونسی وزیر کے حجاب اوڑھنے سے قوتِ سماعت متاثر ہونے سے متعلق بیان کو مضحکہ خیز قراردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حجاب یا سرپوش اوڑھنے سے کسی بھی طرح سماعت متاثر نہیں ہوتی ہے۔انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ''محمد بن رمضان تو اس شاندار طبی اور سائنسی دریافت پر طب میں نوبل انعام کے حق دار ہیں''۔