.

سعودی عرب میں کتنے غیرملکی حاجی رہ گئے؟

غیر قانونی طریقے سے حجاج کو سعودی عرب لانے والے 27 افراد کو سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں اس سال حج کا فریضہ ادا کرنے والے غیرملکی حجاج کی واپسی قریباً مکمل ہونے والی ہے لیکن ابھی تک یہ کنفیوژن برقرار ہے کہ اب تک کتنے حجاج واپس چلے گئے ہیں اور کتنے حجازِ مقدس ہی میں مقیم ہیں۔

اس کنفیوژن کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سعودی وزارت حج کے مختلف عہدے دار اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے والے حجاج سے متعلق مختلف اعداد وشمار جاری کررہے ہیں۔البتہ انھوں نے مرکزی ادارہ شماریات واطلاعات کی جانب سے دنیا کے دوسرے ممالک سے سعودی عرب حج کے لیے آنے والے عازمین کی تعداد سے متعلق اعداد وشمار کو تسلیم کیا ہے۔

اس ادارے کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا کے دوسرے ممالک سے اس سال کل 1384941 حجاج کرام آئے تھے۔وزارت حج کا کہنا ہے کہ ان میں سے قریبا تیرہ لاکھ واپس جاچکے ہیں۔اس کے بعد سعودی عرب میں 84941 حجاج مقیم ہونے چاہئیں لیکن وزارت حج کے ایک عہدے دار کے بہ قول اس وقت 189598 حجاج سعودی عرب میں موجود ہیں۔ان میں 52087 حجاج مکہ مکرمہ اور 137511 مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔

لیکن وزارت کے اسسٹینٹ انڈر سیکریٹری برائے حج امور عبدالرحمان آل نفاعی نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ میں صرف پینتیس ہزار حجاج کرام مقیم رہ گئے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ تیرہ لاکھ حجاج کرام جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے ، مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے ، جدہ کی اسلامی بندرگاہ اور دوسرے زمینی راستوں سے اپنے اپنے آبائی ممالک کو لوٹ چکے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں اس وقت موجود پینتیس ہزار حجاج میں سے زیادہ تر کا تعلق بھارت اور پاکستان سے ہے اور وہ اپنی اپنی پروازوں کے شیڈول کے منتظر ہیں اور وہ 15 محرم ( 29 اکتوبر) کی ڈیڈلائن تک واپس چلے جائیں گے۔

نفاعی نے مدینہ منورہ میں مقیم حجاج کی تعداد نہیں بتائی ہے اور کہا ہے کہ وہ مسجد نبوی میں چالیس نمازیں مکمل کرنے کے لیے مقیم ہیں۔البتہ وزارت حج کے مدینہ منورہ میں ڈائریکٹر محمد عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ مدینۃ النبی میں اس وقت 137511 حجاج موجود ہیں۔

درایں اثناء سعودی محکمہ پاسپورٹ (جوازات) نے یہ اطلاع دی ہے کہ ستائیس سعودیوں اور غیرملکی تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر گاڑیوں میں لاد کر حجاج کو لانے کے الزام میں چھے چھے ماہ تک قید اور جرمانے عاید کیے گئے ہیں۔

سعودی حکام نے ان غیر قانونی حجاج کو لانے کے لیے استعمال کی جانے والی گاڑیوں کو ضبط کر لیا ہے اور کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے تارکین وطن کو جرمانے کی ادائی اور قید کی مدت پوری ہونے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔

محکمہ جوازات نے خلاف ورزی کے مرتکب ان افراد کے نام مقامی اخبارات میں شائع کیے ہیں اور ان کے ساتھ انھیں سنائی گئی سزاؤں کی تفصیل بھی درج ہے۔سعودی ولی عہد اور وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے ان مجرموں کو سنائی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ان ستائیس افراد کو کل اڑتیس لاکھ ریال جرمانہ کیا گیا ہے۔کسی ایک مجرم پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ 6 لاکھ 75 ہزار ریال اور کم سے کم 25 ہزار ریال عاید کیا گیا ہے۔

سعودی حکام نے اس سال حج کے اجازت نامے نہ رکھنے والے ایک لاکھ ستر ہزار افراد کو ان کے آبائی ممالک کو واپس بھیجا تھا۔سعودی حکومت نے حج سے پہلے ایک آگہی مہم بھی چلائی تھی اور اس کے دوران فریضہ حج ادا کرنے کے خواہاں افراد سے کہا تھا کہ ان کے پاس اس مقصد کے لیے ایک قانونی اجازت نامہ ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ مقامی لوگوں کو پانچ سال میں ایک مرتبہ حج ادا کرنے کی اجازت ہے۔