.

ورکروں کے پاسپورٹس رکھنے پر آجر کو 2 ہزار ریال جرمانہ

ملازمتی معاہدے کی نقل فراہم نہ کرنے والے آجر کو 5 ہزار ریال جرمانہ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ محنت نے غیرملکی ورکروں اور ان کے ملکی آجروں کے لیے نئے قواعد وضوابط جاری کیے ہیں۔ان کے تحت اپنے ملازمین کے پاسپورٹس رکھنے والے آجر پر دو ہزار ریال جرمانہ عاید کیا جائے گا اور جو کوئی ملازمت کے معاہدے کی نقل اجیر کو فراہم نہیں کرے گا،اس پر پانچ ہزار ریال جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

جو کوئی آجر اپنے اجیر کو معاہدے میں متعیّن کردہ ملازمت کے علاوہ کوئی اور کام کرنے پر مجبور کرے گا تو اس کو پندرہ ہزار ریال تک جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ملازمین کو تن خواہوں کی ادائی میں تاخیر کرنے والی کمپنیوں پر بھی جرمانہ عاید کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اضافی ادائی کے بغیر ملازمین سے مقررہ اوقات سے زیادہ کام لینے یا اختتام ہفتہ یا چھٹیوں کے دنوں میں ورکروں کو کام پر بلوانے والے آجر اداروں پر بھی جرمانے عاید کیے جائیں گے۔

وزارتِ محنت نے شدید گرم موسم یا خراب موسمی حالات میں ملازمین سے کام لینے والے آجروں کے لیے بھی نئی ہدایات جاری کی ہیں اور مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کیے بغیر نامساعد حالات میں ورکروں سے کام لینے والے آجروں کو بھی جرمانہ بھگتنا ہوگا۔

نئے قواعد وضوابط کے مطابق اگر کوئی کمپنی اپنے کم سے کم بارہ فی صد سعودی ملازمین کو تربیت مہیا نہیں کرے گی تو اس پر بھی جرمانہ عاید کیا جائے گا۔جو کمپنیاں غلط طور پر یہ دعویٰ کریں گی کہ انھوں نے سعودیوں کو اپنے ہاں ملازمت پر رکھا ہوا ہے یا انھوں نے سعودیوں کے لیے مخصوص ملازمتوں پر غیرملکی تارکین وطن کو رکھا ہوا ہے تو ان پر پچیس ہزار ریال تک جرمانہ عاید کیا جائے گا۔ایسی کمپنیوں کو پانچ روز کے لیے بند کردیا جائے گا۔

غیرملکی تارکین وطن کو ویزے فروخت کرنے والوں کو پچاس ہزار ریال تک جرمانہ بھگتنا ہوگا جبکہ کسی لائسنس کے بغیر کسی تارک وطن کو ملازم رکھنے والے پر پینتالیس ہزار ریال جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

خواتین کے لیے مختص اسامیوں پر مردوں کو ملازمت دینے والی کمپنیوں کو ہر مرد ملازم کے بدلے میں دس ،دس ہزار ریال جرمانہ عاید کیا جائے گا اور ان کو ایک دن کے لیے بند بھی کردیا جائے گا۔نیز مخلوط مقامات پر عورتوں کو کام پر مجبور کرنے اور ممنوعہ اوقات میں ان سے کام لینے والی کمپنیوں کو بھاری جرمانے کا سامنا ہوگا۔اس طرح کی خلاف ورزیوں پر پانچ سے دس ہزار ریال تک جرمانہ ہوگا۔

وزارت محنت نے تحفظ اور صحت کے معیارات کو نظر انداز کرنے والی کمپنیوں کے لیے پچیس ہزار ریال تک جرمانہ مقرر کیا ہے۔کم عمر بچوں سے مشقت لینا بھی اسی زمرے میں آئے گا۔وزارت نے کسی لائسنس کے بغیر بھرتی کا کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے دس اور بیس ہزار ریال کے درمیان جرمانہ مقرر کیا ہے۔

اگر کاروباری مالکان وزارت کو غلط اور جھوٹی معلومات فراہم کریں گے تو انھیں پچیس ہزار ریال جرمانے کا سامنا ہوگا۔البتہ اگر وہ وزارت کے تفتیشی افسروں کے کام میں مداخلت کریں گے تو ان پر دس ہزار ریال تک جرمانہ عاید کیا جائے گا

اگر کوئی کمپنی یا آجر کسی خلاف ورزی کا اعادہ کرے گا تو اس پر جرمانے کی رقم دُگنا کردی جائے گی۔قصوروار کمپنی ایک ماہ کے اندر جرمانے کی رقم ادا کرنے کی پابند ہوگی۔دوسری صورت میں اس کو قانون شکن قراردیا جائے گا۔کمپنیاں اپنے خلاف کسی خلاف ورزی کے اندراج کی صورت میں ساٹھ روز کے اندر اپیل کرسکیں گی۔