.

او آئی سی کا مسلم نقطہ نظر اجاگر کرنے کے لیے ٹی وی چینل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چھپن اسلامی ملکوں پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی) نے مسلمانوں کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا ٹیلی ویژن چینل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ مالی معاونین اور شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد مدنی نے بتایا ہے کہ یہ نیا چینل دنیا بھر میں اپنی نشریات پیش کرے گا اور ان میں مسلمانوں کو متاثر کرنے والے ایشوز کو زیربحث لایا جائے گا،اسلامی تعلیمات سے متعلق آگہی پیدا کی جائے گی اور او آئی سی کے چارٹر کے مطابق اقدامات کی حمایت کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر او آئی سی نے اپنی میڈیا کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کو ہمارے مشن ،اقدار اور ثقافت کے دفاع اور وضاحت کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔

جدہ میں او آئی سی کے ایک حالیہ اجلاس میں چینل کے قابل عمل ہونے سے متعلق تین اداروں لولا نیو ہورائزن (میڈرڈ) ،میڈیا ریسرچ اینڈ کنسلٹینسی (میڈرڈ) اور کریٹو میڈیا سالوشنز (دبئی) کی جانب سے پیش کردہ مطالعاتی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اوآئی سی کی کمیونیکشنز ڈائریکٹر ماہا مصطفیٰ عقیل نے بتایا ہے کہ ''اب ہم ٹیلی ویژن چینل کے مالی ،قانونی اور انتظامی پہلوؤں کے بارے میں تبادلہ خیال کے مرحلے میں ہیں اور ہم شراکت کے لیے نجی سرمایہ کاروں اور ٹیلی ویژن کی صنعت کا کما حقہ علم رکھنے والوں کی تلاش میں ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام امور منصوبے کے مطابق چلتے رہے تو او آئی سی کا یہ نیا چینل ایک یا دو سال میں اپنی نشریات پیش کرنا شروع کردے گا اور اس کی نشریات سیٹلائٹ پر انگریزی ،عربی اور فرانسیسی زبانوں میں ہوں گی۔یہ تینوں او آئی سی کی بھی سرکاری زبانیں ہیں۔او آئی سی کے چینل کے پروگرام انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہوں گے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ یہ چینل دن میں چوبیس گھنٹے نشریات پیش نہیں کرے گا اور نہ ہم سی این این یا بی بی سی یا عربی اور انگریزی زبانوں میں نشریات پیش کرنے والے دوسرے ٹیلی ویژن چینلوں کا مقابلہ کرنے جا رہے ہیں لیکن ہم یقینی طور پر فلسطین سمیت مسلم دنیا کو درپیش اہم ایشوز پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

پاکستان کے ممتاز ٹی وی اینکر اور سینیر صحافی و تبصرہ نگار ناصر بیگ چغتائی نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے:''اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مکمل طور پر پیشہ ورانہ ہونا چاہیے۔اس صورت ہی میں یہ اپنی ساکھ قائم کرسکے گا''۔

انھوں نے کراچی سے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''انھوں نے سنہ 2005ء میں مکہ مکرمہ میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کی تھی۔اس وقت واضح طور پر اسلامو فوبیا کی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے اس طرح کے جدید میڈیم کی اشد ضرورت محسوس کی گئی تھی''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں صرف مغرب ہی نہیں بلکہ اپنی نوجوان نسل کو بھی تنازعہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریکِ حریت کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے کیونکہ غیرملکی ٹی وی چینلز کے بے تکان مسلم مخالف اور عرب مخالف پروپیگنڈے نے حقیقی ایشوز کو بالکل فراموش کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''کینیڈا میں منعقدہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں فاتح جسٹن ٹروڈیو کو ملک کی پُرامن مسلم کمیونٹی کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن ہم مسلم دنیا میں ان کی کامیابی اور مسلم کمیونٹی کی حمایت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں اور میڈیا نے ان انتخابات کو بالکل بھی رپورٹ نہیں کیا ہے''۔ناصر بیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ نئے چینل کو اردو میں بھی اپنی نشریات پیش کرنی چاہیے کیونکہ جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی اکثریت اردو بولتی اور سمجھتی ہے۔