.

پینٹاگان :''اغلام باز''افغان کمانڈروں کی پردہ پوشی کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگان کے انسپکٹر جنرل نے افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز کے کمانڈروں کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال اور امریکی فوجیوں کے اغلام بازی کے اس عمل کی جانتے بوجھتے ہوئے پردہ پوشی کرنے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

انسپکٹر جنرل نے افغان کمانڈروں کے قبیح فعل کے واقعات کی تحقیقات کا آغاز نیویارک ٹائمز میں گذشتہ ماہ ایک رپورٹ کی اشاعت کے بعد کیا ہے۔اس رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ان کے افسروں کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ افغان پولیس اور فوجی کمانڈروں کی جانب سے کم عمر لڑکوں سے جنسی بدفعلی کے واقعات کو نظرانداز کردیا کریں۔حتیٰ کہ اس فعل کا اگر فوجی اڈوں پر بھی ارتکاب کیا جاتا ہے تو اس سے صرفِ نظر کیا جائے۔

افغانستان میں مقامی زبان میں اس فعل کو ''بچہ بازی'' یا اغلام بازی کا نام دیا جاتا ہے۔انسپکٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک میمو میں یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ ''کیا محکمہ دفاع سے وابستہ اہلکاروں کو اس طرح کے واقعات کو رپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی سے متعلق کوئی ہدایت نامہ یا غیر رسمی انداز میں کوئی حکم جاری کیا گیا تھا؟''

میمو میں مزید کہا گیا ہے کہ ''بچوں کے جنسی استحصال کا کوئی واقعہ رونما ہونے پر اس کے ردعمل کے لیے اہلکاروں کو کیا تربیت دی گئی تھی یا اس کی کیا منصوبہ بندی کی گئی تھی''۔

یہ میمو امریکی فوج کے تمام اعلیٰ عہدے داروں کو بھیجا گیا ہے اور اس میں افغان حکومت کے عہدے داروں کے بچوں سے جنسی بدفعلی کے ارتکاب کے ان تمام مبینہ کیسوں کی تفصیل بتانے کے لیے کہا گیا ہے جو امریکی یا اتحادی فورسز کو رپورٹ کیے گئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی مذکورہ رپورٹ مختلف فوجیوں اور سنہ 2012ء میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی میرین کے والد کے بیانات پر مبنی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی خصوصی فورسز کے ایک سابق کپتان نے افغان ملیشیا کے ایک کمانڈر کو اغلام بازی کے لیے ایک لڑکا اپنے پاس رکھنے پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔اس افغان کمانڈر نے مبینہ طور پر اس لڑکے کو اپنے بستر پر زنجیر کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔اس واقعے کے بعد اس امریکی کمانڈر سے کمان واپس لے لی گئی تھی اور اس کو افغانستان سے بھی واپس امریکا بھیج دیا گیا تھا۔

افغان وزارت داخلہ نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے کہ وہ بچہ بازی کے واقعات سے اغماض برت رہی ہے۔وزارت نے اغلام بازی کو ''سنگین اور غیر شائستہ فعل'' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ افغان قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دیہی علاقوں میں آج کے اس مہذب دور میں بھی بڑی عمر کے افراد بچوں کو جنسی تلذذ کے لیے اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ان سے بد فعلی کرتے ہیں۔ماضی میں افغان فوج اور پولیس کے کمانڈروں پر اپنے اڈوں پر نوعمر لڑکوں کو جنسی فعل کے لیے اپنے ساتھ رکھنے کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔افغان حکومت نے اس قدیم اور غیر قانونی قبیح حرکت کے سدباب کے لیے کریک ڈاؤن کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس کے مکمل استیصال میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔