.

'طلاق کی خوشی' میں سعودی معلمہ کی سکول میں دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طلاق کو اسلام کی مباح چیزوں میں سب زیادہ ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے اس عمل کو چند عاقبت نااندیش افرد نے بازیچہ اطفال بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایسی ہی ایک مثال حال ہی میں سعودی عرب کے ایک مدرسے میں اس وقت دیکھنے کو ملی کہ جب سکول کی ایک معلمہ نے اپنے لئے 'طلاق کے پرمسرت' موقع پر سکول والوں کو کھلانے کی دعوت دی۔

سماجی رابطے کی سائٹ پر سعودی سکول میں منعقد ہونے والی اس پرتکلف دعوت طلاق کی ویڈیو تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس میں کھانوں کی مختلف ڈشیں اور تیار سویٹس مہمانوں کی منتظر ہیں۔ ایک کیک پر سیاہ لوح پر تحریر سابق شوہر نامدار کی بدقسمتی کا بین کرتی نظر آتی ہے جبکہ دوسرا خوبصورت کریم کیک 'الف مبروک' کے تہینتی پیغامات سے مزین دکھائی دے رہا ہے۔

ویڈیو دیکھنے سے طلاق کی وجہ تو معلوم نہیں ہوتی، تاہم ویڈیو دیکھنے والے بعض افراد نے ردعمل دیتے ہوئے اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ شوہر نے اپنی معلمہ بیوی سے مطالبہ کیا تھا کہ نوکری یا شوہر میں کسی ایک کا انتخاب کر لے، تو 'علم دوست' بیوی نے نوکری کو اپنی عائلی زندگی پر مقدم جانا، ایسے طلاق ہو گئی۔

انوکھی استانی کے خلاف روایت دعوت طلاق کو بڑے پیمانے پر دیکھا جا رہا ہے حالانکہ کھانے اور دعوتوں یا اہتمام تو شادی بیاہ جیسے خوشگوار مواقع پر کیا جاتا ہے اور طلاق کو ہمیشہ بوجھل دل کے ساتھ ہی مجبوری میں گلے لگایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ طلاق پر دعوت سجانے والی استانی کوئی پہلی سعودی خاتون نہیں، اس سے پہلے بھی سعودی خواتین ایسی پروگرامات منعقد کر چکی ہیں۔