.

طہارت میں سعودی شہری دنیا بھر میں سبقت لے گئے!

قضائے حاجت کے بعد ہاتھ دھونے والوں میں اہل چین پیچھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلمان طہارت وپاکیزگی کو ایمان کا جزو سمجھتے ہوئے روحانی بالیدگی کے ساتھ جسمانی طہارت پر بھی خاص توجہ دیتے ہیں۔ مگر حال ہی میں رائے عامہ کے ایک بین الاقوامی جائزے کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ قضائے حاجت کے بعد صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے والوں میں سعودی عرب کے شہری پوری دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ جبکہ اہالیاں چین اور میکسیکو کے لوگ اس کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے۔ یوں سعودی عرب کے شہریوں نے طہارت ایمانی کے ساتھ جسمانی طہارت کا میدان بھی مار لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں Worldwide Independent Network of Market Research"WIN" نامی ادارے نے "گیلپ" کے ساتھ مل کر 64 ملکوں کے شہریوں کی قضائے حاجت کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت پر ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی۔ مجموعی طور پر 62 ہزار 398 لوگوں سے رائے لی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطہ زمین پر بسنے والے 7 ارب 377 ملین لوگوں میں سے دو افراد واش روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھ دھونے کے عادی نہیں۔ تین میں سے ایک شخص ہاتھ دھونے کا عادی ہے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے۔ گویا پوری زمین کی کل آبادی کے دو ارب 460 ملین لوگ رفع حاجت کے بعد پانی سے ہاتھ دھونا ضروری خیال کرتے ہیں۔

WIN جائزہ رپورٹ جن معاشروں میں رفع حاجت کے بعد ہاتھ دھونے کی عادت پائی جاتی ہے وہاں بچپن ہی سے یہ معمول دیکھا جاتا ہے اور جہاں بڑی عمر کے لوگ اس کا اہتمام نہیں کرتے وہ پچپن ہی سے اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ سروے رپورٹ میں 62 ہزار تین سو اٹھانوے افراد میں سے 36 فیصد قضائے حاجت کے بعد ہاتھ دھونے کے عادی نہیں ہیں۔

سعودی شہری طہارت میں سب سے آگے

رپورٹ میں دنیا کے مختلف خطوں کے لوگوں کی صفائی اور پاکیزگی کی عادت کا جائزہ لیا گیا تو پاکیزگی کے میدان میں بھی انسان مجموعہ اضداد پایا گیا۔ جغرافیائی، نظریاتی اور مذہبی اعتبار سے سعودی عرب اور کولمبیا کے درمیان کوئی مماثلت نہیں مگر طہارت وپاکیزگی کے میدان میں دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہیں۔

قضائے حاجت کے بعد سعودی عرب کے 97 فیصد افراد ہاتھ دھوتے ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر کولمبیا کا نام آتا ہے جس کے 93 فیصد لوگ رفع حاجت کے بعد پانی اورصابن کے ساتھ ہاتھ دھونا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہ ان کی مستقل عادت ہے جس کی انہیں تلقین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پورے یورپ میں رفع حاجت کے بعد ہاتھ دھونے میں سب سے آگے یونان کے لوگ ہیں۔ سروے کے مطابق 85 فیصد یونانی پانی اور صابن سے ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ ہالینڈ کے 47 فیصد باشندے ہاتھ دھونے کا اہتمام کرتے ہیں جو یورپ میں اس عادت میں سب سے پیچھے ہیں۔

ایشیائی ملکوں میں چین کے 76 فیصد اور جنوبی کوریا کے 60 فیصد لوگ طہارت کا خاص اہتمام نہیں کرتے ہیں۔ میکسیکو وہ ملک ہے جہاں کے باشندے ٹوائلٹ سے باہر آنے سے قبل ہاتھ دھونے کا اہتمام نہیں کرتے۔ سروے کے مطابق میکسیکو کے صرف 32 فیصد لوگ ہاتھ دھونے کے قائل ہیں جب کہ برازیل کے 73 فیصد باشندے اس کا اہتمام کرتے ہیں۔

"WIN" کا کہنا ہے کہ ان کی اس سروے رپورٹ کی تیاری اور اسے شائع کرنے کا مقصد لوگوں میں واش روم جانے اور اپنے جسم کی صحت وصفائی کا خاص خیال رکھنے کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ رپورٹ میں طہارت و پاکیزگی کے وفوائد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کا اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے پھیلنے والے امراض کا بھی ذکر ہے۔