.

'' ایران ،عراق جنگ کے دوران جوہری سدِّ جارحیت منزل تھی''

ایران نے 80ء کی دہائی میں جوہری ہتھیار کے حصول پرغور شروع کردیا تھا: رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ 1980ء کے عشرے میں عراق کے خلاف جنگ کے دوران اپنا جوہری پروگرام شروع کرتے وقت جوہری سد جارحیت کا حصول ہمارے پیش نظر تھا۔

سابق صدر نے ایران کے ''نیوکلئیر ہوپ'' میگزین کے ساتھ اسی ہفتے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''حکام جوہری سد جارحیت کی صلاحیت پر بالکل ابتدا ہی سے غور کرتے رہے تھے لیکن اس کی عملی شکل کبھی سامنے نہیں آسکی ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''جب ہم نے جوہری پروگرام کا آغاز کیا تو اس وقت ہم حالتِ جنگ میں تھے اور ہم نے اس امکان پر بھی غور کیا تھا کہ ایک دن دشمن جوہری ہتھیار بھی استعمال کرسکتا ہے۔یہ ایک سوچ تھی لیکن اس نے کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارا ہے''۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے جمعرات کو ہاشمی رفسنجانی کے اس انٹرویو پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے۔یہ انٹرویو ایسے وقت میں شائع ہوا ہے جب ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی میں طویل مذاکرات کے بعد طے شدہ تاریخی جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ایران چھے بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران اپنی اس بات پر مصر رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ویانا میں قائم جوہری توانائی کا عالمی ادارہ (آئی اے ای اے) ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ فوجی نوعیت کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے اور وہ پندرہ دسمبر تک اپنی رپورٹ جاری کرے گا۔

سابق ایرانی صدر نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا ہے کہ ''ہم ابھی عراق کے ساتھ حالتِ جنگ ہی میں تھے اور عراق یورینیم کو افزودہ کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن اسرائیل نے بمباری کرکے اس کی جوہری تنصیب ہی کو مکمل طور پر تباہ کردیا''۔وہ 1981ء میں عراق کے اوسیراک ری ایکٹر پر اسرائیلی فضائی حملے کا حوالہ دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارا بنیادی ڈاکٹرائن ہمیشہ سے یہ رہا تھا کہ ہمارا جوہری پروگرام پُرامن ہے لیکن ہمارے ذہنوں سے یہ بات بھی محو نہیں ہوئی تھی کہ اگر ایک روز ہمیں جوہری حملے کا خطرہ ہوا اور یہ ناگزیر بھی لگ رہا تھا تو پھر ہمیں دوسرے راستے پر چلنے کے لیے تیار رہنا ہوگا''۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ایران کے اصلاح پسند رہ نما تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت قدامت پسندوں کے ساتھ کھٹ پٹ چلتی رہتی ہے۔ایران،عراق جنگ کے وقت وہ ایرانی پارلیمانی کے اسپیکر تھے اور اس جنگ کے خاتمے کے کچھ عرصے کے بعد وہ ایران کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔

انھوں نے پڑوسی ملک پاکستان کا بھی دورہ کیا تھا اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کی کوشش کی تھی لیکن ان کے درمیان یہ ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔تاہم پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی ایک نشری تقریر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے ایران ،لیبیا اور شمالی کوریا کو ان کے جوہری پروگراموں کو شروع کرنے میں مدد دی تھی اور ان ممالک ہی نے پاکستان کے خلاف عالمی اداروں کو ثبوت مہیا کیے تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 2004ء میں جو؛ہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے منظرعام پر آنے والے سب سے بڑے عالمی اسکینڈل کا مرکزی کردار بھی قرار دیا گیا تھا اور جنرل مشرف نے ان سے سرکاری ٹیلی ویژن سے ایک اعترافی بیان دلوایا تھا۔اس میں انھوں نے ایران ،شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری راز فروخت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔