.

افغانستان: آشنا کے ساتھ فرار ہونے والی دوشیزہ سنگسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہونے والی ایک نوجوان عورت کو انتہا پسندوں نے سرعام سنگسار کردیا ہے۔

اس لڑکی کا نام رخسانہ بتایا گیا ہے اور اس کی عمرانیس اور اکیس کے درمیان تھی۔اس کے خاندان نے اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر کسی اور مرد کے ساتھ کردی تھی۔منگل کو سامنے آنے والی ایک گرافک ویڈیو میں اس کو سنگسار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

جب مجمع اس کو پتھر مار رہا تھا تو وہ بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ رہی تھی،افغان میڈیا سے نشر ہونے والی تیس سیکنڈز کی ویڈیو میں اس کی آواز بتدریج بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔افغان حکام نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دوشیزہ کو سنگسار کرنے کا یہ واقعہ صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ سے چالیس کلومیٹر دور واقع علاقے غلمین میں ایک ہفتہ قبل پیش آیا تھا۔

غور کی گورنر سیما جوئندہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ رخسانہ کو طالبان ،مقامی مذہبی علماء اور غیر ذمے دار جنگجو سرداروں نے پتھر مار مار کر موت سے ہم کنار کیا تھا۔

جوئندہ نے مقامی حکام کے حوالے سے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رخسانہ کے خاندان نے اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر کی تھی اور وہ اپنے خاوند کو چھوڑ کر ایک ہم عمر لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔گورنر نے اس سنگساری کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کابل حکومت پر اپنے زیر نگیں علاقے کو پاک کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ان کے علاقے میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے اور یقیناً یہ آخری نہیں ہوگا۔افغانستان بھر میں بالعموم اور غور میں بالخصوص خواتین گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔اب جس مرد کے ساتھ یہ لڑکی بھاگی تھی،اس کو تو سنگسار نہیں کیا گیا ہے''۔

صوبہ غور کے پولیس سربراہ مصطفیٰ محسنی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ واقعہ افغان طالبان کے کنٹرول والے علاقے میں ہوا ہے اور اس سال کسی عورت کو سنگسار کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے''۔