.

ایران کے سُنی حکومت کے نسلی ومذہبی مظالم کا شکار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد جہاں یہ ملک ایک مخصوص فرقے اور طبقے کے لوگوں کےلیے جنت ثابت ہوا مگر وہاں اہل سنت والجماعت مسلک کے پیروکاروں کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے۔ ایران کے سنی مسلمانوں کو حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے اور انہیں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر عدم مساوات کے ظالمانہ سلوک کا سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران میں اہل سنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ایرانی رجیم کے ہاتھوں ہونے والی صریح زیادتیوں پرمبنی ایک تفصیلی رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کا آغاز ایک سنی نوجوان مبلغ شہرام احمدی کی پھانسی کے واقعے سے کیا جا رہا ہے۔ شہرام احمد کو حال ہی میں سزائے موت سنائی گئی۔ اس واقعے نے ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کی بنیادی حقوق کی سنگین پامالیوں کا معاملہ ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کسی بھی وقت شہرام احمدی کو سنائی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کر دیں گے۔

احمدی کو سنائی گئی سزا سے یہ آشکار ہو رہا ہے کہ ملک میں غیر فارسی بان بالخصوص سنی اقلیت کے ساتھ کس درجے کا ظالمانہ اور غیر مساوی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ایران کے جنوبی اضلاع، جہاں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے، ایرانی رجیم کی انتقامی پالیسی کا منہ چڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایرانی حکومت صرف مذہب اور مسلک ہی کی بنیاد پر امتیاز نہیں برت رہی ہے بلکہ رنگ ونسل کی بنیاد پر بھی اقلیتوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثالیں ایران کی کرد، ترکمان، عرب اور بلوچ اقوام ہیں۔ چاہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک یا مذہب سے ہو مگر انہیں صرف اس لیے عدم مساوات کا سامنا ہے کہ یہ لوگ ایرانی اور فارسی النسل نہیں ہیں۔

ایران میں جہاں اہلسنت کے مسلمان اپنے ساتھ ہونے والی زیادیتوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں وہیں دوسری جانب ایرانی حکومت اور سرکاری میڈیا بار بار یہ پروپیگنڈہ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ ایران میں کسی کے ساتھ مذہب، زبان، مسلک اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔

اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کا سامنا ہے۔ ملکی سیاست میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ پہلے ہی نہیں تھی مگر اب سنی مسلمانوں کو مساجد میں اپنے طریقے کے مطابق نماز اور عبادت سے بھی روکا جانے لگا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران اور کئی دوسرے شہروں میں مساجد کے قیام پر پابندی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تہران بلدیہ نے دارالحکومت کی اکلوتی جامع مسجد بھی شہید کر دی تھی جس پر ایران بھر میں اہل سنت والجماعت مسلک کی جانب سے شید ردعمل سامنے آیا تھا۔

ایران کے سنی رہ نما الشیخ عبدالحمید اسماعیل زئی بلوچستان کے دارالحکومت زاھدان کی جامع مسجد کے امام ہیں۔ تہران بلدیہ کی جانب سے مسجد کی شہید کرنے کے واقعے پر انہوں نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب میں اس معاملے پر متوجہ کیا مگر انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

رواں سال اگست میں ایرانی صدر حسن روحانی نے سنی اکثریت علاقے کردستان کا دورہ کیا جہاں انہیں صحافیوں کی جانب سے تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صحافیوں نے صدر حسن روحانی سے پوچھا کہ ایرانی کابینہ میں کوئی سُنی وزیر کیوں نہیں ہے تو انہوں نے سخت غصے میں جواب دیا کہ ہم ایران میں شیعہ اور سنی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔

ایران میں سنی آبادی کا تناسب

ایران کی کل 15 سے 17 ملین آبادی یعنی کل آبادی کا 20 سے 25 فی صد اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ معلومات غیر سرکاری اعداد وشمار کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔ سرکاری سطح پر اقلیتوں کی آبادی کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہ تو جمع کی جاتی ہیں اور نہ ہی انہیں ظاہر کیا جاتا ہے۔

سنی آبادی کی اکثریت مغربی ایران کے ضلع کردستان، جنوب مشرق میں بلوچستان، شمال مشرق میں چولستان، ساحلی شہر آذربائیجان، جنوب مغرب میں اھواز، شمال مشرق میں خرسان، اور شمال میں جیلا اور طالش کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔
ایرانی دستور اور اہل سنت

ایران میں مسلک اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک صرف حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ یہ سب کچھ ایران کے دستور کا حصہ ہے۔ ایرانی دستور میں اعلیٰ عہدے صرف امامی اہل تشیع کے لیے مختص ہیں۔ دستور کی دفعہ 107 میں وضاحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ کوئی غیر مذہب [مراد سنی مسلمان] مرشد اعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکا۔ ایران کی گارڈین کونسل کا رکن نہیں بن سکتا۔ گارڈین کونسل کا چیئرمین بھی نہیں بن سکتا۔ آرٹیکل 61 کے مطابق 'کوئی سنی مسلمان کسی عدالت کا جج نہیں بن سکتا۔'

آرٹیکل 115 کی دفعہ 5 میں تحریر ہے کہ 'صدر جمہوریہ کے لیے سرکاری مذہب شیعہ کا پیروکار ہونا ضروری ہے۔' آئین کی دفعہ 121 میں ہے کہ ریاست کا ہر عہدیدار سرکاری مذہب[شیعہ] کے مطابق حلف اٹھائے گا۔

آرٹیکل 12 اور 13 میں صراحت کی گئی ہے کہ شیعہ مذہب کے سوا کسی دوسرے مذہب کی تبلیغ کی قطعی اجازت نہیں ہوگی تاہم اہل تشیع کو تمام تر مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کی تبلیغ اور تشہیر کی بھی اجازت ہے۔ اسی ضمن میں ایران کے دارالحکومت تہران میں اہل سنت والجماعت کو مسجد بنانے سے روکا گیا ہے۔ مساجد کی تعمیر ان تمام شہروں میں ممنوع ہے جہاں شیعہ اکثریت ہے۔

ایرانی دستور کے آرٹیکل دو میں ایران کے سیاسی نظام کی تعریف کے بعد اس کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ آئین کی رو سے ایران میں اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی ڈھانچہ امامی شیعہ کی تعلیمات کے تحت ہو گا۔ ملک کی زمام کار امامی اہل تشیع کے ہاتھ میں ہوگی جو فقہا کی وضع کردہ تمام شرائط پر پورا اترنے کے بعد کوئی عہدہ اور منصب سنھبالنے کے اہل ہوں گے۔

اہل سنت کی آبادی میں اضافے کا خوف

ایران میں جہاں ایک جانب سرکاری سطح پر اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کو دبایا اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے وہیں ایران حکومت اہل سنت کی آبادی میں اضافے سے خوف کا بھی شکار دکھائی دیتی ہے۔

ایران میں متعدد مرتبہ حکومتی عہدیدار ملک میں سنی مسلک کے لوگوں کی تعداد بڑھنے پر تشویش میں مبتلا دکھائی دیے ہیں۔ انہوں نے اپنی زبان سے کھل کر اس بات کا اظہار اور اقرار کیا ہے کہ ایران میں سنی مسلک کے لوگوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ولایت فقیہ کے نظام کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

بین الاقوامی المصطفیٰ یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ناصر رفیعی کا کہنا ہے کہ ایران میں اہل سنت مسلک کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ شیعہ مسلک کی آبادی اس سرعت کے ساتھ نہیں بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا بعض شہروں میں قائم سکولوں میں سنی بچوں کی تعداد 50 فی صد سے تجاوز کر رہی ہے۔ شیعہ آبادی کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود ان کے اسکولوں میں موجود بچوں کی تعداد سنی مسلمانوں کے بچوں سے کم ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی"مہر" نے حال ہی میں ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ آذربائیجان میں سنی آبادی میں 70 فی صد اضافہ ہو چکا ہے اور شیعہ آبادی صرف 30 رہ گئی ہے۔ شیعہ آن لائن نامی ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 20 برسوں میں ملک میں شیعہ مسلمان اقلیت میں بدل جائیں گے۔

ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ ملک میں اہل سنت تیزی کے ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ضلع خراسان میں وسیع علاقے پر اراضی کی خریداری شروع کی ہے۔ انہوں نے اہل تشیع کو کثرت اولاد کی ترغیب دی اور کہا کہ جو شخص اہل تشیع کی ترویج اور آبادی میں اضافے پر ایک ریال خرچ کرتا ہے وہ ایران کے امن واستحکام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

آبادی سے متعلق مرشد اعلیٰ کا پیغام

ایران میں اہل تشیع کی آبادی میں بتدریج کمی پر رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے ایرانی شیعہ مسلک کے پیروکاروں کو اپنی آبادی میں اضافے حکم دیا تھا۔ جہاں جہاں سنی مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں شیعہ آبادی میں اضافے کے لیے حکومت نے ایک نیا پلان ترتیب دینا شروع کیا ہے۔ خلیج العربی سے متصل علاقوں، بحر عمان کے آس پاس، اماراتی جزیروں طنب الکبریٰ، طنب الصغریٰ اور ابو موسیٰ میں شیعہ آبادی کو کھپانے کے لیے سرمایہ کاری کے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں تاکہ ان اہل تشیع کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آباد ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے بعد ایک ایرانی عہدیدار محمد ناظمی اردکانی نے بتایا کہ اگلے ڈیڑھ سال میں ایران کی آبادی 80 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ سنہ 2014ء میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا آبادی میں اضافے کا پلان ایران کی مجلس شوریٰ میں بھی زیر بحث آیا۔ حکومت نے سپریم لیڈر کی شیعہ آبادی میں اضافے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے آئندہ چند برسوں میں اس حوالے سے مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا۔

یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اپنی آبادی میں تیزی کے ساتھ کمی کی طرف گامزن ہیں۔ ہمیں کچھ عرصے کے اندر ایران کی آبادی کو مزید ایک گنا بڑھا کر 150 ملین تک لے جانا ہے۔

اشتعال انگیز مذہبی رسومات

ایران میں حکومت کی سطح پر اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل کے ساتھ ساتھ اہل تشیع کے ہاں ایسی ایسی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں جو سنی مسلمانوں کے لیے اشتعال انگیزی سے کم نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کو "عمر کشتون"[قتل عمر] کو خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوں 9 ربیع الاول شہادت عمر فاروق کو ایران میں "عیدالزھراء" کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ایران میں حضرت عمر فاروق کی شہادت کو عید کے طور پر منانے کی مکروہ روایت کوئی پانچ سو سال قبل صفویوں نے شروع کی تھی۔ صفوی چار صدیوں تک ایران میں حکمران رہے اور انہی کی دور میں ایران میں شیعہ مذہب تیزی کے ساتھ پھیلا۔

حضرت عمر فاروق کے قاتل ابو لولو مجوسی کو بھی ایران میں نہایت عقیدت واحترام کا مقام دیا جاتا ہے۔ وسطی ایران کے کاشان شہر میں بد بخت ابو لولو مجوسی کا باقاعدہ مزار ہے جہاں دور دور سے شیعہ زائرین 'عبادت' کے لیے وہاں آتے ہیں۔

ایران میں خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات پر طعن وتشنیع کا سلسلہ بھی عام ہے خاص طور پر محرم الحرام کے موقع پر ایران کے شیعہ مذہبی ذاکرین کھلے عام صحابہ کرام اور ازواج نبی کے خلاف دشنام طراز کرتے ہیں۔

ایران میں ہر سال 21 مارچ کو نئے سال کا آغاز بھی مذہبی جوش و جذبے منایا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو حضرت فاطمۃ الزھراء کے یوم وفات کی نسبت ماتم کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ خلفائے راشدین کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم جامع تہران کے شیعہ امام محمد علی موحدی کرمانی نے اہل تشیع پر زور دیا تھا کہ وہ عید نوروز کے موقع پر خوشی کے بجائے ماتم کو زیادہ اہمیت دیں۔

پھانسی کی سزائیں

ایران میں معمولی معمولی واقعات کی بنیاد پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اس ظلم کا شکار ہونے والوں میں بھی اہل سنت کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ ایران کی جیلیں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو ان کے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔ بیشتر کو پھانسی کی سزائیں سنائی گئی ہیں جنہیں کسی بھی وقت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

رواں سال مارچ میں کرج نامی شہر کے "رجائی شہر" جیل میں قید 6 سنی کرد کارکنوں حامد احمدی، کمال ملائی، جمشید دھقانی، جہانگیر دھقانی، صدیق محمدی اور ھادی حسینی کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ انہیں سنہ 2012ء میں ایران کی ایک انقلاب عدالت نے 'فساد فی الارض' کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

حال ہی میں ایک اور سنی مبلغ شہرام احمدی کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔ شہرام ایک سلفی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور پچھلے چھ سال سے ایران کی جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ ان پر ایران کے ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف گفتگو کرنے اور اپنے سیاسی اور مذہبی عقائد کی تشہیر کے لیے کتب اور سی ڈیز فروخت کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ شہرام کے ایک بھائی کو اسی الزام میں 2012ء میں 18 سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہرام احمدی کو دوران حراست ہولناک جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔