.

یو اے ای کتاب میلے میں 15 لاکھ کتب کی نمائش

شارجہ کتاب میلے میں امسال متعدد نئے ریکارڈ قائم ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ میں بین الاقومی کتابی میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں کتب بینی کے شوقین افراد کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے ڈیڑھ ملین کتابیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں۔ منتظمین کے مطابق کتاب میلہ اپنی 34 سالہ تاریخی روایت کا سب سے بڑا اور منفرد ایونٹ ہے، جو چودہ نومبر تک جاری رہے گا۔

کتاب میلہ کے ڈائریکٹر احمد بن رکاض العامری نے العربیہ نیوز کو بتایا کہ میلے میں ویسے تو بہت سے ریکارڈ قائم ہوئے جن میں سرفہرست 210 زبانوں میں ڈیڑھ ملین کتابوں کی نمائش شامل ہے۔ شارجہ کتاب میلہ کو یو اے ای حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس سال یہ ایک ریکارڈ ساز میلہ ہے جس میں پولینڈ، پیرو، ارجنٹائن، بلغاریہ اور مقدونیہ سمیت 64 ممالک کے ڈیڑھ ہزار سے زائد اشاعتی اداروں نے حصہ لے رہے ہیں۔

العامری نے مزید بتایا کہ اس سال مزاح کے موضوع پر لکھی گئی کتب بھی میلے میں رکھی گئیں۔ ان کا کہنا تھا "کہ شارجہ کتاب میلہ میں کوئی سنسر شپ نہیں ہوتی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تمام کتب بغیر سنسر کے نمائش میں شامل کی جاتی ہیں اور یو اے ای حکومت ہمیں ہر طرح مدد فراہم کرتی ہے۔"

"کتابوں کو سنسر کر کے ہم ان کی مانگ میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس لئے متنازع کتابوں کا مقابلہ انہیں سنسر کرنے میں نہیں بلکہ ان کے بارے میں بات نہ کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔"

العامری نے ڈیجیٹل مطبوعات اور ای بکس کی بڑھتی ہوئی مانگ کو سراہا اور کہا کہ ایسے وقت جب انٹرنیٹ کا دور ہے تو کتاب کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کتاب میلے کا افتتاح شارجہ کے حاکم شیخ سلطان بن محمد القاسمی اور خادم الحرمین الشریفین کے مشیر اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے کیا۔

میلے کے ڈائریکٹر العامری کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اشاعت اور ای بکس کی مقبولیت کے علی الرغم کاغذ پر چھپی کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اشاعتی اداروں کو ای بکس کی فروخت سے کاغذ پر چھپی کتاب کی نسبت زیادہ منافع ملتا ہے۔

میلے کے منتظمین نے امید ظاہر کی کہ، ایسے وقت کہ جب پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے، کتاب میلہ منعقد کرنے ان کی کوشش سے عرب خطے کے 'گہری ثقافت' اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ العامری نے یہ بات زور دیکر کہی کہ "انتہا پسندی کے مقابلے میں ثقافت زیادہ مضبوط ہتھیار ہے۔"