.

بہروپیےاسرائیلی فوجیوں کی اسپتال میں کارروائی کی فوٹیج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں کی غربِ اردن کے شہر الخلیل میں ایک اسپتال میں بھیس بدل کر سفاکانہ انداز میں چھاپہ مار کارروائی کی کلوز سرکٹ کیمروں سے بنی ویڈیو منظرعام پر آگئی ہے۔اسپتال میں اسرائیلی اہلکاروں نے ایک فلسطینی کو فائرنگ کر کے شہید کردیا تھا اور ایک کو گرفتار کر لیا تھا۔فلسطینیوں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک فلسطینی نوجوان عزام شلالدہ کی گرفتاری کے لیے یہ کارروائی کی گئی تھی۔اس پر گذشتہ ماہ غربِ اردن میں ایک یہودی آباد کار کو چاقو گھونپنے کا الزام تھا۔اس یہودی کی جوابی فائرنگ سے یہ نوجوان زخمی ہوگیا تھا اور الخلیل کے الاہلی اسپتال میں زیر علاج تھا۔

الاہلی اسپتال کے ڈائریکٹر جہاد شوار نے فلسطینی ریڈیو کو بتایا تھا کہ جمعرات کو علی الصباح تین بجے کے قریب بیس سے تیس افراد دو منی ویگنوں میں سوار ہو کر آئے تھے۔وہ ایک وہیل چئیر کے ساتھ اسپتال میں داخل ہوئے تھے اور انھوں نے یہ ڈھونگ رچایا کہ ان کے ساتھ ایک حاملہ خاتون ہے۔

اسپتال کے کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج میں پستولوں اور بندوقوں سے مسلح ان اہلکاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ان میں سے بعض کی ڈاڑھیاں تھیں اور بعض نے سر پر عربی کفایا اوڑھ رکھے تھے۔وہ اسپتالوں کی راہداریوں میں چلتے ہوئے عملے سے کہہ رہے تھے کہ ان کے لیے راستہ چھوڑ دیا جائے۔

ایک اسرائیلی افسر نے فلسطینی عورت کا بہروپ دھار رکھا تھا اور اس نے سیاہ برقع پہن رکھا تھا۔ایک اور نے سرپوش اوڑھ رکھا تھا اور اس نے ایک حاملہ عورت کی طرح ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن رکھے تھے۔اس کے ساتھ دوسرے خفیہ سکیورٹی افسروں نے عربوں جیسی نقلی مونچھیں اور ڈاڑھیاں لگا رکھی تھیں تاکہ وہ دیکھنے میں فلسطینی نظر آئیں۔

اسپتال میں داخل ہونے کے بعد ان مسلح اہلکاروں نے عملے کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا اورعزام الشلالدہ کے کمرے پر دھاوا بول دیا۔اس کمرے میں شلالدہ کا بھائی بلال سو رہا تھا۔اس کو اسرائیلی فوجیوں نے بیڈ پر رسی کے ساتھ باندھ دیا تھا۔

اس کمرے سے ملحقہ باتھ روم سے بلال کا کزن عبداللہ وضو کرکے باہر نکلا تو اسرائیلی فوجیوں نے اس پر فائرنگ کردی اور اس کو وہیں پانچ گولیاں مار کر شہید کردیاتھا۔اس کے بعد وہ عزام کو اسی وہیل چئیر پر ڈال کر لے کر گئے تھے جس پر وہ جعلی حاملہ عورت کو لائے تھے۔اسرائیلی اہلکاروں کے اسپتال سے روانہ ہونے کے بعد فوٹیج میں اسپتال کے عملے کو فائرنگ والے کمرے کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خصوصی دستے اسی انداز میں عربوں جیسا روپ دھار کر فلسطینی مزاحمت کاروں کی پکڑ دھکڑ کے لیے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں لیکن یہ ایک منفرد واقعہ تھا کہ انھیں اسپتال میں داخلے کے لیے ایک اہلکار کوبھیس بدل کر حاملہ عورت بنانا پڑا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اسامہ نجار نے اس واقعے کو قتل قرار دیا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ عبداللہ شلالدہ کے سر اور چھاتی کے اوپری حصے پر گولیوں کے نشانات سے لگتا ہے کہ ان کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔

غرب اردن میں تشدد کے حالیہ واقعات کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی اس طرح بھیس بدل کر فلسطینیوں کے خلاف یہ کوئی پہلی کارروائی نہیں ہے۔گذشتہ ماہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکار احتجاج کرنے والے فلسطینیوں میں گھل مل گئے تھے۔وہ بھی شکل وشباہت سے فلسطینی لگ رہے تھے۔مظاہرے کے دوران ہی اچانک انھوں نے اپنے ہتھیار نکال لیے اور ایک فلسطینی کو گرفتار کرتے ہوئے کیمرے کی آنکھ کی گرفت میں آگئے تھے۔