.

سعودی عرب میں عجائب قدرت کی نادر تصویری جھلک

'سیاحوں کی آنکھ سے اوجھل مقامات کو دیدہ وروں کی تلاش'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جزیرہ عرب اسلامی تاریخ و ثقافت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ محیر العقول عجائبات قدرت، صحرائوں، جزیروں، تاریخی پہاڑیوں، چٹانوں اور غاروں کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاح اور قدرتی مناظر کے دلدادہ سعودی عرب کے صحرائوں اور جزیروں کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مُملکت سعودی عرب میں بہت سے تاریخی اہمیت کے حامل اور سیاحوں کے لیے دلچسپی کا بے پناہ سامان سموئے ایسے لاتعداد مقامات ابھی تک مخفی ہیں یا ان تک بہت کم لوگوں کی رسائی ہو پائی ہے۔

محمد الشاوی ایک مقامی شہری اور قدرتی مقامات کی سیر وسیاحت کے دلدادہ ہیں۔ وہ ماضی میں بھی سعودی عرب کے تاریخی قدرتی مناظر کو سوشل میڈیا کے لیے سامنے لاتے رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سعودی عرب کے شمال مغربی، شمالی وسطی اور شمالی پہاڑی علاقوں کا سفر کیا۔ اپنے اس سیاحتی دورے کے دوران انہوں نے خوبصورت پہاڑی چٹانوں کی تصاویر کا ایک گلدستہ انسٹاگرام پر پوسٹ کیا ہے۔ بلاشبہ یہ چٹانیں عجائبات قدرت کا مجموعہ دکھائی دیتی ہیں۔

محمد الشاوی نے بتایا کہ سیاحت کی غرض سے سعودی عرب کے طول وعرض میں گھومنے والے مقامی اور غیر ملکی سیاح زیادہ تر پہلے سے مشہور مقامات کی طرف جاتے ہیں، وہ نئے اور دُنیا کی آنکھوں سے اوجھل اس قدرتی ذخیرے تک کم ہی پہنچ پاتے ہیں جو ابھی تک زیادہ لوگوں کی نظروں میں نہیں آ سکے ہیں۔ میں نے عجائبات قدرت کے چند نمونے انسٹاگرام پر پوسٹ کیے ہیں۔ انہیں بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے اور سیاحوں نے انہیں دیکھنے کی تمنا ظاہر کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قدرتی حسن کے مرقع سمجھے جانے والے مقامات کا حسن برقرار رکھنے لیے ریاست کے قوانین کا احترام بھی لازمی ہے۔ عجائبات قدرت کو دیکھنے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے مگر ان کے قدرتی ماحول کو خراب کرنے، درخت کاٹنے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے سے سختی سے گریز کرنا چاہیے۔