.

حرم مکہ میں اسمارٹ الیکٹرانک سروسز کا آغاز

منصوبے سے حجاج ومعتمرین سمیت عام شہری بھی مستفید ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے حجاج ومعتمرین کو بہتر خدمات اور سہولیات مہیا کرنے کے لیے جدید آلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی سے استفادے کا ایک نیا منصوبہ ترتیب دیا ہے۔

حرمین شریفین کے نگراں ادارے اور سعودی عرب میں کام کرنے والے ٹیلی کام کمپنی "اتصالات" نے مشترکہ طور پر حجاج ومعتمرین کو حرم شریف میں الیکٹرانک اسمارٹ سروز مہیا کرنے کے ایک نئے منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے عرب اخبار 'مکہ' کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسمارٹ الیکٹرانک سروسز کی مدد سے حرم کی حدود میں موجود کوئی بھی حاجی، زائر یا معتمر اپنی موجودگی کے بارے میں احباب کو آگاہ کر سکے گا۔ اس کے ساتھ یہ سروس حرم میں حج وعمرہ کی مانیٹرنگ کرنے والے اداروں کے لیے مددگار ہو گی۔

رپورٹ کے مطابق مکہ میں حرمین شریفین منتظمین اور اتصالات کے عہدیداروں نے ایک اجلاس کے دوران مسجد حرام میں اسمارٹ الیکٹرانک سروسز کی فراہمی کے معاہدے کی منظوری دی۔

ٹیکنیکل انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر انجینیر بندر الحزیم نے بتایا کہ اجلاس کے دوران حرم میں اسمارٹ الیکٹرانک سروسز کی فراہمی کی منظوری اور اس کے عملی نفاذ کے طریقہ کار بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے حکومت کے دیگر اداروں کا تعاون بھی درکار ہو گا تاکہ سروس کے منفی پہلوئوں کا سدباب کیا جا سکے۔

بندر الحزیم کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے ادارے کے سربراہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی جدید اسمارٹ سروسز کی فراہمی کے حوالے سے تمام تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے ساتھ اس حوالے سے قابل عمل تجاویز پیش کرے گی۔ منصوبے کے تحت مسجد حرام کے داخلی اور خارجی راستوں پر الیکٹرانک گیٹس کی تنصیب بھی شامل ہے۔

اسمارٹ الیکٹرانک گیٹ لگنے سے حرمین شریفین کے نگراں ادارے کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی انجام دہی میں بھی سہولت ملے گی۔ اس سہولت سے نہ صرف حجاج ومعتمرین مستفید ہوں گے بلکہ فلاحی اداروں کے کارکن، حرم کی حدود میں مقیم شہری، سول سیکٹر سے وابستہ افراد اور طلباء بھی استفادہ کر سکیں گے۔

مسجد حرام میں اسمارٹ الیٹکرانک سروسز پر غور وخوض کے لیے نگراں ادارے نے حال ہی میں جدید مواصلاتی سہولیات کے حوالے سے دوسرے اداروں کے ساتھ کئی اجلاس بھی کیے ہیں۔ ان اجلاسوں میں بھی منصوبے کے تکنیکی اور فنی پہلوئوں پر غور کیا گیا۔